
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے ٹیرف فیصلے پر اپنے ردِ عمل میں کہا کہ یہ فیصلہ انتہائی مایوس کن ہے اور ایسے فیصلے ہماری قوم کی توہین ہیں۔ انہوں نے عدالت پر سیاسی دباؤ ہونے کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ عدالت کتنی آسانی سے دباؤ میں آ جاتی ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرف اقدام کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے ذریعے اپنے دور میں عالمی معاملات میں کامیابیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جو لوگ چار سال میں نہیں کر پائے، ہم نے ایک سال میں کر دکھایا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ٹیرف کی وجہ سے وہ آٹھ میں سے پانچ جنگیں روکنے میں کامیاب ہوئے، جن میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ بھی شامل تھی، جو نیوکلیر جنگ میں بدل سکتی تھی۔
صدر ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ان کی مدد سے 35 ملین افراد کی جانیں بچائی گئیں اور جنگ کو روکا گیا۔ پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات ہوئی، شہبازشریف نے یہ بات پیس بورڈ اجلاس میں بھی دہرائی اور کہا کہ ٹرمپ کی کوششوں سے ہماری جنگ رکی۔
امریکی صدر نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ بعض فیصلوں میں حکومت کی کارکردگی کو سراہا جانا اچھی بات ہے، تاہم عالمی دباؤ کے باوجود انہوں نے اہم اقدامات کیے جو ان کے نزدیک کامیابی کے مترادف ہیں۔ اس ٹیرف نے ہمیں بڑی نیشنل سیکیورٹی فراہم کی۔
انھوں نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ عدالت نے کہا کہ میں 1 ڈالر بھی چارج نہیں کرسکتا، فیصلے کے مطابق میں تجارتی پابندی لگا کر کسی بھی ملک کو تباہ کرسکتا ہوں، میں جو چاہوں کرسکتا ہوں لیکن 1 ڈالر چارج نہیں کرسکتا، مجھے کسی بھی ملک کو تباہ کرنے کی اجازت تو دے دی لیکن چارج کرنے کی نہیں، ان کا فیصلہ غلط ہے لیکن میرے متبادل ہیں، میرے پاس لائنسن کا اختیار ہے لیکن لائنسن فیس کا نہیں۔