بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے جاتے جاتے بھارت کو مرچیں لگا دیں

بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس جاتے جاتے اپنی آخری تقریر میں بھارت کو مرچیں لگا گئے ہیں۔

بھارتی میڈیا انڈیا ٹوڈے کے مطابق بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس نے اپنی اختتامی تقریر میں بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً 25 منٹ پر محیط تقریر میں محمد یونس نے کہا کہ بنگلہ دیش کھلے سمندر کے ذریعے شمال مشرقی بھارت کی سات ریاستوں جنہیں ’سات بہنیں‘ بھی کہا جاتا ہے، کے لیے معاشی ترقی کے لیے وسیع مواقع فراہم کر سکتا ہے۔

اس سے قبل بھی محمد یونس اپنی تقاریر میں اس حوالے سے بھارت کو طیش دلاتے آئے ہیں۔ محمد یونس پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ بھارت کی سات ریاستوں کی سمندر تک کوئی رسائی نہیں اور بنگلا دیش ان بھارتی ریاستوں کا سرپرست ہے۔

اس مرتبہ محمد یونس نے سات بہن ریاستوں کا ذکر بھارت کا نام لیے بغیر کیا، جو دراصل گزشتہ برس پہلی بار انہوں نے چین کے دورے کے دوران کیا تھا۔

محمد یونس کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش سات بہن ریاستوں، نیپال اور بھوٹان کے لیے معاشی خوشحالی کے وسیع مواقع فراہم کر سکتا ہے، ہمارے کھلے سمندر صرف سرحدیں نہیں بلکہ عالمی معیشت کے دروازے ہیں۔

یہ بیان اس کوشش کے طور پر دیکھا گیا کہ بھارت کی زمین سے گھری شمال مشرقی ریاستوں کو دباؤ میں لایا جائے اور بنگلہ دیش کو اس خطے کے لیے دروازے کے طور پر پیش کیا جائے۔

یونس نے یہ موضوع پہلی بار گزشتہ سال اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے دوران چین میں اٹھایا تھا، جہاں انہوں نے شمال مشرقی بھارت کو زمین سے گھرا ہوا قرار دیا تھا اور چین سے خطے میں اپنا اثر بڑھانے کی اپیل کی تھی۔ ان کے اس بیان پر بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور شمال مشرقی ریاستوں کے وزرائے اعلی نے سخت تنقید کی تھی۔

اپنی اختتامی تقریر میں یونس نے چین کو بھی نمایاں مقام دیا۔ انہوں نے اسٹریٹجک توازن کی ضرورت پر زور دیا اور بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی بات کی۔

یونس نے اپنی تقریر میں زور دیا کہ بنگلہ دیش اب مطیع ملک نہیں رہا، جسے بھارت کے لیے ایک اشارے کے طور پر لیا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ آج کا بنگلہ دیش اپنے آزادانہ مفادات کے تحفظ میں پر اعتماد، فعال اور ذمہ دار ہے۔ بنگلہ دیش اب مطیع خارجہ پالیسی یا دیگر ممالک کی ہدایات و مشورے پر منحصر ملک نہیں رہا۔

بھارت کی جانب سے محمد یونس کے اس بیان پر کوئی سرکاری ردعمل تو سامنے نہیں آیا مگر بھارتی سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل مہیش جیتھملانی نے نوبل انعام یافتہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ محمد یونس نے بنگلہ دیش میں ناکامی کا الزام بھارت پر ڈال کر اسے بیرونی دشمن کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles