
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں کئی سالوں سے آپریشن نہیں ہوا، نقل مکانی کو بحران کی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ کوئی بحران نہیں، وادی تیراہ میں جب برف باری ہوتی ہے نقل مکانی ہوتی ہے۔
منگل کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ اور وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ برف باری کے دوران سرحد پر واقع وادیوں سے نقل مکانی ہوتی ہے، وادی تیرہ میں بھی ہرسال برف باری سے نقل مکانی ہوتی ہے، نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز رکھے ہیں، نقل مکانی کو بحران کی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جرگے کے ارکان کالعدم ٹی ٹی پی کے پاس گئے، کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگ بال بچوں کے ساتھ وہاں رہتے ہیں، صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، یہ ایگریمنٹ صوبائی حکومت جرگے میں طے پایا، جس کا نوٹفیکیشن شائع ہوا، وادی تیراہ میں کوئی تھانہ نہیں ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ یہ نقل مکانی معمول کی بات ہے، کیوں کہ یہ جگہ 17 ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع ہے جہاں سخت سردی ہوتی ہے، وادی تیراہ میں برف باری شروع ہوتے ہی نقل مکانی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنی ناکامی کا سارا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں، وادی تیراہ میں کئی سالوں سےآپریشن نہیں ہوا، یہ سب مفروضے ہیں، 11 دسمبر کو ایک جرگہ ہوا تھا جس میں اہم امور طے پائے اور فیصلہ ہوا کہ علاقے میں اسپتال، اسکول اور تھانے قائم کیے جائیں گے۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ماضی گواہ ہے خیبر کے عوام سردیوں میں نقل مکانی کرتے ہیں، یہ قبائل ہر سرما میں ہجرت کرتے ہیں۔
اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی 13 سال سے صوبے میں حکومت ہے، 4 ارب روپے کہاں استعمال ہوئے، صوبائی حکومت جواب دے، وادی تیراہ کے معاملے سے وفاق یا فوج کا تعلق نہیں ہے۔