امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ ایرانی قیادت نے 800 سے زائد افراد کی سزائے موت منسوخ کر دی ہیں۔ ان تمام افراد کو گزشتہ روز پھانسی دی جانی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ایکس‘ پر اور اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس اقدام سے انسانی جانوں کے تحفظ کی امید پیدا ہوئی ہے۔
انہوں نے ایرانی قیادت کے اس فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔
ایرانی قیادت کی جانب سے سزائے موت کی منسوخی سے متعلق بیان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور متنازع بیان میں ایران اور امریکا میں احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے دوہرا معیار بھی اپنایا۔
صدرٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ایران میں احتجاج ہونا بہت اچھا ہے، تاہم امریکا کی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے خلاف ہونے والے احتجاج کو انہوں نے انتشاری اور بغاوت قرار دیا۔

اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے منی سوٹا میں مظاہرین کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر یہ باغی پروفیشنل ہیں جنہیں اس کام کے لیے بڑی رقوم دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مقامی حکومت اور میئر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ کیا کرنا ہے، منی سوٹا میں ان لوگوں نے مکمل طور پر اپنا کنٹرول کھو دیا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر انہیں خود کارروائی پر مجبور کیا گیا تو بہت تیزی کے ساتھ سارا معاملہ حل ہو جائے گا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں اپنی سیکیورٹی کے لیے گرین لینڈ کی شدید ضرورت ہے، گرین لینڈ کے بغیر ہماری سیکیورٹی میں بڑا ’سوراخ‘ رہے گا، ہم نے ملٹری پر بڑی سرمایہ کاری کی ہے، ہمیں گولڈن ڈوم میزائل سسٹم کیلئے گرین لینڈ چاہئے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لئے کسی نے نہیں کہا، یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا آٹھ سو افراد کی پھانسیاں منسوخ کرنےکا بڑا اثر ہوا۔
ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ماریا مچادو نے انہیں خود نوبیل انعام دینے کی آفر کی، مچادو نے کہا کہ آپ نے آٹھ جنگیں رکوائیں ہیں، تاریخ میں آپ سے زیادہ کوئی اس انعام کا حقدارنہیں۔