
کراچی کے باغ جناح گراؤنڈ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کارکنان نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا، جس پر پولیس نے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی ہے اور اس دوران پولیس نے کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ دوسری طرف باغ جناح گراؤنڈ کے باہر تحریک انصاف کے کارکنوں نے آج نیوز سمیت متعدد چینلز کی گاڑیوں پر حملہ کردیا، جس میں متعدد صحافی زخمی ہوگئے، جس پر ویرداخلہ سندھ نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔
اتوار کو پاکستان تحریک انصاف کے کراچی میں جلسے کے پیش نظر پی ٹی آئی کارکنوں نے باغ جناح گراؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر باغ جناح کے چاروں اطراف پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔
نمائش چورنگی کے قریب باغ جناح میں مظاہرین کی پولیس موبائل پر پتھراؤ کی فوٹیج بھی سامنے آئی جس میں مشتعل افراد کی جانب سے پولیس موبائل کو روکتے اور پتھراؤ کرتے دیکھا جاسکتا ہے، پولیس نے سولجربازار سے نمائش آنے والے پی ٹی آئی کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی۔
نمائش چورنگی پر کارکنان کو حراست میں لینے کا سلسلہ بھی جاری ہے، پولیس کی جانب سے وقفے وقفے سے نمائش چورنگی پر جمع ہونے والے کارکنان پر لاٹھی چارج کیا گیا جب کہ ایک کارکن پر پولیس اہلکار کی جانب سے تھپیڑ مارے گئے۔
پولیس نے نمائش چورنگی خالی کرادی اور کارکن باغ جناح میں داخل ہوگئے جب کہ کارکنوں کی بڑی تعداد باغ جناح پہنچنا شروع ہوگئی ہے۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کے کارکنوں نے صحافیوں پر حملہ کردیا، باغ جناح گراؤنڈ کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں نے آج نیوز کی ڈی ایس این جی پر دھاوا بول دیا، حملے میں ڈی ایس این کے ڈرائیور اور کمیرا مین زخمی ہوگئے۔
ترجمان پی ٹی آئی سندھ محمد علی بلوچ نے کہا کہ نمائش پر میڈیا پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، کارکنان پرامن ہیں کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے، اگر کسی نے میڈیا پر حملہ کیا ہے تو ان شرپسند کے خلاف کارروائی ہوگی۔
ترجمان پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی پرامن جماعت ہے، انتشار پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، میڈیا عوام کی آواز ہے میڈیا پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کراچی باغ جناح گراؤنڈ کے قریب آج نیوز کی گاڑی پر حملے کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ ایس ایس پی ایسٹ فی الفور ابتدائی پولیس ایکشن پر مشتمل تفصیلات سے آگاہ کریں، شرپسند عناصر کو آڑے ہاتھوں لیا جائے، کسی کو امن و امان کے حالات سبوتاژ کرنے نہیں دیں گے۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ جدید مانیٹرنگ نظام سے نشاندہی کرکے شرہسندوں کو گرفتار کیا جائے، پولیس کڑی نگرانی اور مانیٹرنگ کو مذید سخت کرے، ہم نے امن چاہا ہے اور ہم امن کے قدردان ہیں۔
ترجمان حکومت پاکستان برائے سندھ بیرسٹر راجہ انصاری نے کہا کہ جس کا ڈر تھا وہی ہوا میں کل سے کہہ رہا ہوں یہ دہشت گرد ہیں، ان کے ساتھ افغانیوں کی بڑی تعداد ہے، یہ صرف افراتفری چاہتے ہیں، سندھ حکومت نے اجازت دے کر انہیں ایکسپوز کردیا۔
راجہ انصاری نے کہا کہ آج نیوز کی ٹیم خصوصا خاتون صحافی پر حملہ کیا گیا ان لوگوں کے آگے ماں اور بہن کی کوئی عزت نہیں ہے، میں آج نیوز کی ٹیم اور ڈی ایس این جی پر حملے کی مذمت کرتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد، دہشت گرد ہوتا ہے، یہ آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے پر حملہ ہے، میں صحافیوں پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سندھ حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں۔
خیال رہے کہ کراچی میں تحریک انصاف کے جلسے سے پہلے مزارِ قائد اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ پیپلز چورنگی سے مزارِ قائد آنے والی سڑک کا ایک ٹریک اور خداداد کالونی سے آنے والی سڑک کے دونوں ٹریک بند ہیں۔ اس کے علاوہ گرومندر سے نمائش سگنل تک جانے والی سڑک بھی بند کردی گئی ہے۔