
ایران میں جاری احتجاج پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کارروائی کی دھمکی کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی مداخلت سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے فرسٹ پوسٹ کے مطابق جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر ایران میں پُرامن مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تو امریکا ان کی مدد کے لیے آئے گا۔ ٹرمپ نے لکھا کہ امریکا “لاک اینڈ لوڈڈ” ہے اور کارروائی کے لیے تیار ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ٹرمپ کے بیان پر ایران کے سینئر عہدیدار اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی مداخلت پورے خطے میں افراتفری کا باعث بنے گی اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔
علی لاریجانی نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں احتجاج کو ہوا دے رہے ہیں تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے بھی خبردار کیا کہ ایران کی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کا بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔
ادھر ایران میں اتوار سے شروع ہونے والے احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 7 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مظاہروں کا آغاز خراب معاشی صورت حال، قومی کرنسی کی قدر میں شدید کمی، مہنگائی اور کمزور معاشی نمو کے خلاف عوامی غصے کے نتیجے میں ہوا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں افراطِ زر کی شرح 42.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
احتجاج کا آغاز تہران سے ہوا، جہاں دکاندار سڑکوں پر نکل آئے، بعد ازاں کم از کم 10 جامعات کے طلبہ بھی مظاہروں میں شامل ہوگئے۔ متعدد شہروں میں بازار بند رہے جب کہ سرد موسم کے باعث سرکاری تعطیل کے اعلان سے ملک کے کئی حصوں میں معمولاتِ زندگی معطل ہوگئے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران احتجاج مختلف صوبوں تک پھیل گیا، جہاں بعض مقامات پر مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کرگئے۔ نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے مطابق مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔
حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض مسلح عناصر نے صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ بعد ازاں سیکیورٹی فورسز نے متعدد افراد سے اسلحہ بھی برآمد کیا۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں سویلین حکومت نے مظاہرین سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم امریکا اور مغربی ممالک کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر عائد پابندیاں اور خطے میں حالیہ کشیدگی ملکی معیشت پر دباؤ میں مزید اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔