
اسلام آباد میں اپوزیشن قائدین نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر اہم مشاورت کی ہے، جس کے بعد ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس آج باضابطہ طور پر اپنا جواب دیں گے۔ مشاورت کے دوران مذاکراتی عمل سے متعلق حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے اپوزیشن قیادت کی مشاورت محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں ہوئی، جس میں وزیراعظم کی مذاکراتی پیشکش پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس اور اسد قیصر شریک ہوئے، جبکہ سلمان اکرم راجہ آڈیو لنک کے ذریعے مشاورت کا حصہ بنے۔ اجلاس میں مذاکراتی عمل سے متعلق حکمتِ عملی اور فیصلوں پر بات چیت کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو اپنا مؤقف بتا دیا ہے، اور دونوں رہنما آج مذاکرات پر جواب دیں گے۔
دریں اثنا وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وزیراعظم مسلسل پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں اور امید ہے کہ بات چیت مثبت اور نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔
ان کے مطابق، ان کی رائے میں پی ٹی آئی قیادت کی ”سیاسی سوچ میں“ مذاکرات کی گنجائش کم دکھائی دیتی ہے اور عمران خان ماضی میں زیادہ تر اپنے سیاسی مفاد پر توجہ دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات ہمیشہ ”کچھ لو اور کچھ دو“ کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے رابطے کیے جا رہے ہیں اور فیصلہ اب پی ٹی آئی کی قیادت نے کرنا ہے کہ وہ بات چیت کا راستہ اپناتی ہے یا نہیں۔
اس سے قبل اس سے قبل پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اگر محمود خان اچکزئی کے پاس مینڈیٹ موجود ہے تو وہ مذاکرات کر سکتے ہیں، کیونکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی اس حوالے سے ان کا نام لیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمت ہو یا مفاہمت کسی نہ کسی صورت بات چیت کا راستہ کھلنا چاہیے، کیونکہ ملک پہلے ہی سنگین معاشی و سیاسی مسائل سے دوچار ہے۔
بیرسٹر گوہر نے بہنوں کی ملاقات پر سیاست نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کے اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت ملنی چاہیے، ورنہ عوام میں غلط تاثر جاتا ہے۔
دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا کہ پارٹی میں جو بھی رہنما مذاکرات کی بات کرتا ہے، وہ بانی پی ٹی آئی کے مؤقف کے ساتھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے خیبر پختونخوا کی قیادت کو اسٹریٹ موومنٹ کا پیغام پہنچا دیا ہے، جبکہ انہوں نے توشہ خانہ کیس کو بے بنیاد قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے قوم کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔