دبی لاشیں اور انسانی فُضلہ؛ دنیا کے ’بلند ترین کوڑے دان‘ ماؤنٹ ایورسٹ کی صفائی کی تیاری

ماؤنٹ ایورسٹ پر کچرے کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کوہِ پیماؤں اور پورٹرز کی جانب سے چھوڑا گیا فضلہ جمع ہوتا چلا گیا۔ جس میں سلنڈرز، پلاسٹک کی بوتلیں، رسیاں، اور انسانی فضلہ بھی شامل ہے، جس کے باعث ایورسٹ کو اب دنیا کا ’بلند ترین کوڑے دان‘ بھی کہا جانے لگا ہے۔

نیپالی میڈیا کے مطابق دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر بڑھتے ہوئے کچرے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے پہلی بار پانچ سالہ صفائی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
نیپالی حکومت نے عالمی تنقید اور ماحولیاتی خطرات کے پیش نظر 2025 سے 2029 تک ’ایورسٹ کلیننگ ایکشن پلان‘ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حالیہ برسوں میں ماؤنٹ ایورسٹ کی صفائی کے لیے سرکاری فنڈز سے نیپالی فوج کی قیادت میں مہمات چلائی گئیں، جن کے نتیجے میں بڑی مقدار میں کچرا ہٹایا گیا۔

تاہم مالی شفافیت اور طویل المدتی حکمتِ عملی نہ ہونے پر سوالات اٹھنے کے بعد حکومت کو ایک جامع پالیسی پر مبنی منصوبہ لانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔

نیپالی حکومت نے بڑھتی ہوئی عالمی تنقید کے بعد پہلی بار 2025 سے 2029 تک ’ایورسٹ کلیننگ ایکشن پلان‘ متعارف کرایا ہے۔

نیشنل جیوگرافک کی رپورٹ کے مطابق ایورسٹ پر مجموعی طور پر تقریباً 50 ٹن (50 ہزار کلوگرام) سے زائد کچرا موجود ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ہر کوہ پیما مہم کے دوران اوسطاً 8 کلوگرام کچرا پیدا کرتا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ پہاڑ پر ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کوہِ پیماؤں اور پورٹرز کی جانب سے چھوڑا گیا فضلہ، جن میں آکسیجن سلنڈر، پلاسٹک کی بوتلیں، رسیاں، کچرا اور انسانی فضلہ شامل ہے، ایورسٹ کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔

اس سنگین صورتحال کی وجہ سے ایورسٹ کو اب دنیا کا ’بلند ترین کوڑے دان’ کہا جاتا ہے، جسے صاف کرنے کے لیے نیپال حکومت نے اب مائیکرو چپس اور ’پُو بیگز‘ (انسانی فضلے کے لیے ڈسپوز ایبل بیگ) کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔ 

صرف 2025 کے موسم بہار میں ایورسٹ، لہوتسے اور نوپتسے کے علاقوں سے 83 ٹن سے زیادہ کچرا جمع کیا گیا۔ اس سے قبل 2024 میں نیپالی فوج نے تقریباً 11 ٹن کچرا اور کئی لاشیں نکالی تھیں۔

حالیہ عرصے میں برف پگھلنے کے نتیجے میں ماؤنٹ ایورسٹ پر موجود دہائیوں پرانا کچرا اور انسانی فضلہ نکل کر سامنے آرہا ہے، جو آبی ذخائر اور نچلے علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کے لیے صحت کے خطرات میں اضافہ کررہا ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایورسٹ پر سالانہ تقریباً 14 ٹن انسانی فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ بیس کیمپ سے اوپر بیت الخلا کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے کوہ پیما برف میں گڑھے کھودتے ہیں، جو گلیشیئر پگھلنے سے سطح پر آجاتا ہے اور پینے کے پانی کو آلودہ کرتا ہے۔

اس میں سے سے خاص طور پر پلاسٹک سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے، کیونکہ ایک پلاسٹک بیگ کو قدرتی طور پر ختم ہونے میں 500 سال تک لگ سکتے ہیں۔

ماؤنٹ ایورسٹ پر پہلی منظم صفائی مہم کا آغاز سال 2000 میں جاپانی کوہِ پیما کین نوگوچی نے کیا تھا۔ کین نوگوچی جو اس بلند ترین چوٹی کو انسانی حوصلے کی علامت سمجھتے تھے، جب وہاں پہنچے تو انہیں ہر طرف کچرا پھیلا ہوا نظر آیا۔

بعد ازاں نوگوچی اور ان کی ٹیم نے ماؤنٹ ایورسٹ سے تقریباً 9 ٹن فضلہ صاف کیا۔ 2007 تک وہ مجموعی طور پر 90 ٹن کے قریب کچرا صاف کرنے میں کامیاب رہے۔

حکومت کا اعلان کردہ یہ منصوبہ گزشتہ برس سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں حکومت کو ہدایت دی گئی تھی کہ ایورسٹ کی برداشت کی صلاحیت کا تعین کر کے کوہ پیماؤں کے پرمٹس محدود کیے جائیں۔ منصوبے کے تحت رسی بچھانے والی ٹیموں کو ہر سال استعمال ہونے والی سیڑھیوں اور نائلون رسیوں کی تفصیل دینا ہوگی، کیونکہ اندازاً اس سامان کا 400 کلوگرام مواد ہر سال پہاڑ پر رہ جاتا ہے۔

کوہِ پیماؤں کو کو بیس کیمپ سے اوپر لگائے جانے والے بینرز اور جھنڈوں کو بایو ڈی گریڈیبل بنانا لازم ہوگا، جبکہ مہماتی ٹیموں کو اپنی لگائی گئی تمام رسیاں اور سیڑھیاں واپس لانا ہوں گی۔ عارضی کچرا جمع کرنے کا مرکز قائم کیا جائے گا، جہاں کوہ پیماؤں کو اوپر سے لایا گیا پرانا کچرا جمع کرانا ہوگا۔

اس کے علاوہ محکمہ سیاحت کی جانب سے مہم سے قبل بریفنگ سیشنز میں ماحولیاتی آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی، جبکہ مہماتی کمپنیوں کو تحریری طور پر کچرا مینجمنٹ کے عہد نامے جمع کرانا ہوں گے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles