
آسٹریلیا نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی قیادت پر انسدادِ دہشت گردی مالی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ آسٹریلوی حکومت نے اسے دہشت گردی کے خلاف اپنے مضبوط مؤقف کا حصہ قرار دیا ہے۔
آسٹریلوی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان کی حکومت نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس سے وابستہ تین سینئر رہنماؤں پر انسدادِ دہشت گردی مالی پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔
آسٹریلوی حکومت کے مطابق یہ فیصلہ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور ان کی معاونت کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔
آسٹریلوی وزیرِ خارجہ پینی وانگ کے مطابق بی ایل اے پاکستان میں متعدد پرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہی ہے، جن میں خودکش دھماکے اور دیگر حملے شامل ہیں۔ ان کے مطابق ان حملوں میں عام شہریوں، اہم تنصیبات اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔
آسٹریلوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اپنے عزم پر قائم ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھے گی۔
حکام کے مطابق ان پابندیوں کا بنیادی مقصد دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کو روکنا ہے تاکہ ان کے لیے فنڈنگ، بھرتی اور سرگرمیوں کا تسلسل مشکل بنایا جا سکے۔
آسٹریلوی حکومت کے مطابق یہ اقدامات عالمی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی پالیسی کا حصہ ہیں، جن کے تحت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون بھی جاری رہے گا۔