مغربی افریقی ملک میں فوج کا اقتدار سنبھالنے کا اعلان، صدر برطرف

مغربی افریقا کے ملک بینن میں فوجی دستے نے سرکاری ٹی وی سے اچانک حکومت کے خاتمے اور صدر پیٹریس ٹیلن کی برطرفی کا اعلان کیا ہے۔ فوجی بغاوت کی قیادت لیفٹیننٹ کرنل پاسکل ٹیگری کر رہے ہیں، جنہوں نے خود کو ‘ملٹری کمیٹی فار ری فاؤنڈیشن’ کا سربراہ قرار دیا ہے۔

اتوار کے روز بینن کے سرکاری ٹیلی وژن پر فوجی اہلکاروں کے ایک دستے نے اعلان کیا کہ ملک میں حکومت ختم کر دی گئی ہے اور صدر پیٹریس ٹیلن کو انکے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کےمطابق یہ اقدام مغربی افریقا میں حالیہ برسوں کے دوران سامنے آنے والی متعدد بغاوتوں میں ایک اور اضافہ ہے۔

بغاوت کرنے والے گروہ نے خود کو ‘ملٹری کمیٹی فار ری فاؤنڈیشن’ کے نام سے متعارف کرایا اور کہا کہ صدر کو برطرف اور تمام ریاستی اداروں کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

صدر پیٹریس ٹیلن 2016 سے اقتدار میں تھے اور آئندہ سال اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد عہدہ چھوڑنے والے تھے۔ انتخابات میں ان کی جماعت کے امیدوار اور سابق وزیرِ خزانہ رومیالڈ واداگنی کو فیورٹ تصور کیا جا رہا تھا۔

دوسری جانب اپوزیشن کے امیدوار رینوڈ اگبوڈجو کی نامزدگی الیکٹورل کمیشن نے یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ ان کے پاس انتخاب لڑنے کے لیے درکار اسپانسرز کی مطلوبہ تعداد موجود نہیں۔

گزشتہ ماہ بینن کی پارلیمنٹ نے صدراتی مدتِ میں ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے پانچ سال کی مدت کو بڑھا کر سات سال کر دیا تھا، تاہم اس عہدے کے لیے دو مدت کی حد ہی برقرار رکھی گئی تھی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles