امریکا سے سیکڑوں بھارتی شہری غیر قانونی قیام کے باعث ملک بدر،73 سالہ سکھ خاتون بھی شامل

بہتر روزگار اور اچھے مستقبل کی تلاش میں نہ صرف بھارتی بلکہ کئی ممالک سے شہری غیر قانونی طریقے سے دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں، لیکن اکثر انہیں واپس لوٹنا پڑتا ہے۔ یہ مسئلہ بھارت کے لیے بڑھتی ہوئی پریشانی بن گیا ہے۔اور بھارتی شہریوں کا امریکا سے واپسی کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم ہزاروں بھارتی شہریوں کے خلاف کارروائی کے دوران رواں سال اب تک سیکڑوں افراد کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ، ”جنوری سے اب تک 2,790 بھارتی شہری جو امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے، ان کی تصدیق کے بعد واپس آئے ہیں۔“

ترجمان نے مزید بتایا کہ برطانیہ سے بھی تقریباً 100 بھارتی شہریوں کو ان کی شہریت کی تصدیق کے بعد ملک بدر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک عرصے سے غیر قانونی ہجرت کے خلاف اپنا مؤقف دہراتا آ رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ اس بات کی حامی رہی ہے کہ لوگ دوسرے ممالک میں قانونی طریقے سے جائیں۔ بھارت چاہتا ہے کہ ہجرت کے لیے محفوظ، باقاعدہ اور قانونی راستوں کو فروغ دیا جائے تاکہ کسی کو غیر قانونی طور پر سفر کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔

گزشتہ ماہ بھی جیسوال نے بتایا تھا کہ، ’جنوری 2025 سے اب تک 2,417 بھارتی شہریوں کو امریکا سے واپس بھیجا گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ قانونی راستوں سے بیرونِ ملک جائیں، غیر قانونی قیام بھارت کے مؤقف کے خلاف ہے۔‘

تازہ ترین معلومات کے مطابق، حالیہ ملک بدری میں پنجاب کی 73 سالہ سکھ خاتون بھی شامل ہیں، جنہیں کیلیفورنیا میں امیگریشن حکام نے معمول کے چیک کے دوران حراست میں لیا اور بعد ازاں ستمبر میں بھارت واپس بھیجا گیا۔

AAJ News Whatsapp

ترجمان نے واضح کیا کہ جب کسی شخص کے بارے میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ کسی ملک میں قانونی حیثیت نہیں رکھتا اور خود کو بھارتی شہری ظاہر کرتا ہے، تو بھارتی حکام اس کی مکمل جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ متعلقہ دستاویزات کی بنیاد پر پس منظر کی جانچ کے بعد اگر اس کی شہریت کی تصدیق کے بعد بھارت اسے واپسی قبول کرتا ہے۔ جیسوال نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں امریکہ سے ہونے والی ملک بدریاں بھی اسی طریقۂ کار کے تحت انجام دی گئی ہیں۔

یہ عمل وزارتِ خارجہ کے مطابق باقاعدہ طریقۂ کار کے تحت جاری ہے، تاکہ بھارت اپنے شہریوں کی شناخت کے بعد انہیں قانونی طور پر واپس لے سکے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles