
برطانوی خبر رساں ادارے (رائٹرز) کے مطابق بھارت نے دعوٰی کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے آپریشن کے لیے نئی دہلی کو چھ ماہ کی پابندیوں سے استثنیٰ (sanctions waiver) دے دیا ہے، جس کے بعد بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت بڑھانے میں مدد ملے گی۔
رائٹرز کے مطابق بھارت نے گزشتہ سال ایران کے ساتھ چاہ بہار بندرگاہ کی ترقی اور آپریشن کے لیے دس سالہ معاہدہ کیا تھا، جب کہ اس ماہ نئی دہلی نے طالبان حکومت کے زیر انتظام افغانستان کے ساتھ روابط بڑھانے کے لیے کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا۔
چاہ بہار بندرگاہ، جو ایران کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے، کا منصوبہ ابتدا میں افغانستان کو ریل لنک کے ذریعے جوڑنے کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ اس کی تجارت میں اضافہ اور کراچی بندرگاہ پر انحصار کم کیا جا سکے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعرات کو پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ بھارت کو چھ ماہ کی رعایت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدے پر بات چیت بھی جاری ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے کہا کہ وہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جو دونوں ممالک کے تعلقات میں ممکنہ نرمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی حکومت نے گزشتہ ماہ چاہ بہار بندرگاہ کے لیے دیا گیا ابتدائی استثنیٰ منسوخ کر دیا تھا، جو 2018 میں ایران پر “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کے تحت نافذ کیا گیا تھا۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ ایک بھارتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نئی رعایت بدھ سے نافذ ہو چکی ہے، جب کہ امریکا کے سفارت خانے نے اس پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔