بھارت پاک افغان معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرسکتا ہے: خواجہ آصف


وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ قطر اور ترکی کی ثالثی کی بدولت مذاکرات کو قابل عمل بنایا گیا، تاہم بھارت اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ساری قیادت افغانستان میں موجود ہے اور اگر حملہ ہوتا ہے تو بھارت یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ یہ پاکستان کے اندر سے ہوا، حالانکہ ہر واقعے کا 200 فیصد تعلق افغانستان سے ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے پاس اپنے گھر، خاندان اور تربیتی کیمپس موجود ہیں اور افغانوں کی تعداد ان کی کیمپس میں بڑھتی جا رہی ہے۔
وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں، لیکن ٹی ٹی پی سے براہِ راست کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹی ٹی اے سے بات کی گئی ہے اور پی ٹی آئی کے بانی نے ان دہشت گردوں کی حمایت کی اور انہیں پاکستان میں آباد کیا۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بھارت معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے اور حملے کی صورت میں وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ہمارا کوئی تعلق نہیں، لیکن حقیقت میں ہر واقعے کا تعلق افغانستان سے ہے۔
وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ قطر مشکل وقتوں میں مذاکرات کے لیے مددگار رہا اور اس کا تعاون قابل ستائش ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles