
پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کو انتہا پسند جماعت پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ ہے۔ انتہا پسند جماعت کی قیادت کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔ غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی سزا چودہ سال قید ،بیس لاکھ جرمانہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نفرت انگیزی، اشتعال انگیزی اور قانون شکنی میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے گا، پولیس افسران کی شہادت اور املاک کی تباہی میں ملوث افراد پر دہشت گردی کے مقدمات چلیں گے۔
فیصلے کے مطابق انتہا پسندی میں ملوث جماعت کی قیادت کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا، جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کے حوالے ہوں گے، ان کے پوسٹرز، بینرز اور اشتہارات پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔
پنجاب حکومت کے فیصلے مطابق انتہا پسندی میں ملوث جماعت کے بینک اکاؤنٹس منجمد اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیئے جائیں گے، لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر سخت ترین کارروائی ہوگی۔
صوبائی حکومت نے افغان شہریوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا، جبکہ غیرقانونی مقیم غیر ملکیوں کیخلاف کومبنگ آپریشن بھی کیا جائے گا۔
اجلاس میں پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خلاف بھی سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، غیر قانونی اسلحہ کی فوری بازیابی کا حکم دے دیا، اسلحہ فروخت کرنے والے تمام ڈیلرز کے اسٹاک کا معائنہ کیا جائے گا، غیر قانونی اسلحہ رکھنا ناقابل ضمانت جرم ہے، غیرقانونی اسلحہ رکھنے پر 14 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی منظوری دے دی گئی۔