حماس نے مزید 2 لاشیں اسرائیل کے حوالے کردیں

حماس نے غزہ امن معاہدے کے تحت 2 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دی ہیں۔ اسرائیل نے مزید 45 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کی ہیں جن پر تشدد، گولیوں کے زخم اور ٹینکوں سے روندے جانے کے نشانات پائے گئے ہیں۔

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ اس نے امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت دو مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دی ہیں، جبکہ باقی یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش کے لیے وقت اور خصوصی آلات درکار ہیں۔

اس کے برعکس، اسرائیل نے حماس پر لاشوں کی حوالگی میں تاخیر کا الزام عائد کرتے ہوئے امدادی سامان کی آمد و رفت محدود رکھنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

بی بی سی کے مطابق حماس کے عسکری ونگ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہیں اور ان تمام یرغمالیوں کی لاشیں واپس کر دی گئی ہیں جن تک اس کی رسائی ممکن تھی۔

اسرائیل کی تصدیق

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان کے مطابق دونوں لاشوں کی شناخت زنبر ہیمن اور محمد االاطرش کے نام سے ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ حماس اس سے قبل بھی 8 یرغمالیوں کی لاشوں کو اسرائیل کے حوالے کرچکا ہے۔ مزید 2 لاشوں کی حوالگی کے بعد اسرائیل کو موصول ہونے والے ہلاک یرغمالیوں کی لاشوں کی تعداد 10 ہوگئی۔ تاہم اسرائیل نے ایک لاش سے متعلق دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ کسی یرغمالی کی نہیں۔

حماس نے مزید 4 لاشیں اسرائیل کے حوالے کردیں، ایک لاش یرغمالی کی نہیں، اسرائیل کا دعویٰ

اسرائیل کی جانب سے 45 فلسطینیوں کی لاشیں واپس

حماس کے زیر انتظام فلسطینی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے بدھ کے روز مزید 45 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کی ہیں. جس کے بعد واپس کی گئی لاشوں کی مجموعی تعداد 90 ہوگئی ہے۔

خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ آئی کے مطابق واپس کی گئی لاشوں پر تشدد، گولیوں کے زخم اور ٹینکوں سے روندے جانے کے نشانات پائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ لاشیں غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تھیں، جنہیں غزہ کی مختلف مردہ خانوں میں رکھا گیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles