
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے افغان طالبان کے جارحانہ اقدامات پر پاک فوج کے موٴثر جواب سے آگاہ کیا۔
ایوان صدر سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق بدھ کو صدر مملکت آصف علی زرداری سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایوان صدر میں ملاقات کی جب کہ ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل نے صدرِ مملکت کو ملک کی مجموعی داخلی اور خارجی سلامتی کی صورت حال پر بریفنگ دی۔
ملاقات میں فیلڈ مارشل نے صدر آصف زرداری کو افغان طالبان کے جارحانہ اور اشتعال انگیز اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حالیہ صورت حال پر بھی بریفنگ دی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افغان حملوں کے جواب میں پاک افواج کے مؤثر اور بھرپور ردِعمل سے بھی آگاہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے مسلح افواج کی قوت، بہادری، صلاحیت اور تیاری پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
صدر مملکت نے قوم کے دفاع میں افواجِ پاکستان کی چوکسی اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا، خصوصاً افغان سرحد پر ہونے والے سرحد پار حملوں کو بروقت اور موٴثر انداز میں پسپا کرنے پر تعریف کی۔
آصف علی زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی قومی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔
آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق 15 اکتوبر 2025 کو علی الصبح افغان طالبان نے بلوچستان کے علاقے اسپن بولدک میں 4 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، جنہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بھرپور اور مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا، اس دوران 15 سے 20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ اسپن بولدک کا واقعہ منفرد یا الگ نوعیت کا نہیں ہے، 14 اور 15 اکتوبر کی شب افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج نے خیبر پختونخوا کے کُرم سیکٹر میں پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملے کی کوشش کی تھی، جسے پاکستانی فورسز نے بہادری سے پسپا کر دیا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جوابی کارروائی میں افغان چوکیوں کو بھاری نقصان پہنچا اور دشمن کی 8 چوکیوں کے علاوہ 6 ٹینک بھی تباہ کیے گئے جب کہ 25 سے 30 دہشت گرد مارے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔
جھڑپوں کا پس منظر
11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب جھڑپیں اس وقت شروع ہوئی تھیں، جب کابل نے الزام لگایا تھا کہ اسلام آباد نے رواں ہفتے افغان دارالحکومت پر فضائی حملے کیے تھے۔
طالبان سرحدی فورسز کے مطابق پاکستانی فضائی حملوں کے ردعمل میں افغان سرحدی فورسز مشرقی علاقوں میں بھاری لڑائی میں مصروف رہیں۔ کنڑ، ننگرہار، پکتیکا، خوست اور ہلمند کے طالبان حکام نے بھی جھڑپوں کی تصدیق کی۔
اسلام آباد نے کابل میں حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن مخالف فریق پر زور دیا تھا کہ ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے باز رہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی میں کئی افغان فوجی مارے گئے اور عسکری گروہ مؤثر اور شدید جوابی کارروائی کے باعث پسپا ہو گئے تھے۔