
وزیراعظم شہبازشریف نے حکومتی وفد کو اتحادی جماعت پیپلزپارٹی کے تحفظات کو افہام وتفہیم سے دور کرنے کی ہدایت کردی جب کہ حکومتی وفد اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں صدر مملکت آصف زرداری سے ملاقات کے لیے نواب شاہ پہنچ گیا۔
بدھ کے روز وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں کا اہم اجلاس ہوا، جس میں پنجاب اور سندھ میں اختلافات اور ان کو حل کرنے کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔
اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور رانا تنویر حسین نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے حکومتی وفد کو اتحادی جماعت پیپلزپارٹی کے تحفظات کو افہام وتفہیم سے دور کرنے، اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزرا کو پیپلزپارٹی کی سینئر قیادت سے ملاقاتیں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
اس مقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیاسی بیانات کی بنا پر پیپلزپارٹی سے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
اجلاس میں پیپلزپارٹی کے ساتھ رابطے جاری رکھنے اور تحفظات دورکرنے کےلیے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا، وزیراعظم اس معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازسے بھی بات کریں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ پارٹی رہنماؤں نے دونوں طرف سے متنازع بیان بازی بند کرنے کی تجاویز بھی دیں۔
بعدازاں وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حکومتی وفد اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں صدر مملکت آصف زرداری سے ملاقات کے لیے نواب شاہ پہنچ گیا جب کہ وفد خصوصی چارٹرڈ طیارے سے نواب شاہ پہنچا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیرداخلہ محسن نقوی بھی حکومتی وفد میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملکی صورت حال اور پیپلز پارٹی و (ن) لیگ کے درمیان سیاسی کشیدگی کے خاتمے پر بات چیت ہوگی۔
یاد رہے کہ گزشتہ کئی روز سے پنجاب اور سندھ حکومت کے درمیان ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان پر پیپلز پارٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کرتے ہوئے اپنے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ اگر کوئی پنجاب کے خلاف بات کرے گا تو بطور وزیر اعلیٰ میں اسے جواب ضرور دوں گی اور صوبے کے عوام کا تحفظ کروں گی، کسی سے معافی نہیں مانگوں گی۔