قرض کی واپسی کے لیے خاتون بینکر نے بھارتی فوجی اہلکار کو رسوا کردیا

سوشل میڈیا پر ایک آڈیو کلپ وائرل ہو رہا ہے جس میں ایک بھارتی خاتون ٹیلی کالر نے ایک پیرا ملٹری اہلکار کے ساتھ لون کے تنازعے پر بدتمیزی کی ہے۔

آڈیو کلپ میں خاتون جن کی شناخت انورادھا ورما کے طور پر ہوئی ہے، انہوں نے سینٹرل پولیس ریزرو فورس (سی پی آر ایف) اہلکار کو لون کی واپسی کے لیے دباؤ ڈالتے اور توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے سنا گیا ہے جس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بینک سے مبینہ منسلک خاتون انو رادھا نے نیم فوجی دستے کے مقروض اہلکار کو کہا تم جاہل ہو، اگر تم تعلیم یافتہ ہوتے تو کسی اچھی کمپنی میں کام کررہے ہوتے۔ تم ناخواندہ ہو، اسی لیے تمہیں سرحد پر بھیجا گیا ہے۔

خاتون نے اہلکار کو باتیں سناتے ہوئے کہا کہ تم دوسروں کے پیسے نہ لوٹو، اسی لیے تمہارے بچے معذور پیدا ہوتے ہیں۔

انو رادھا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تم مجھے کیا سکھاؤ گے؟ میں بھی دفاعی خاندان سے ہوں۔ تم قرضوں پر جیتے ہو، اور مجھے نصیحتیں دے رہے ہو؟

AAJ News Whatsapp

مذکورہ آڈیو کلپ کے وائرل ہونے اور شدید غم و غصے پھیلنے کے بعد بعض سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ انورادھا ورما اسی بینک سے وابستہ ہیں۔ اس تنازعے پر ردعمل دیتے ہوئے بینک نے جمعہ کو ایک بیان جاری کیا جس میں اس ورما کے ساتھ اپنے تعلق کی تردید کی۔

بینک کے بیان کے مطابق سوشل اور آن لائن میڈیا پر گردش کرنے والے ایک آڈیو کلپ کے حوالے سے جہاں ایک خاتون کو سی پی آر ایف اہلکار سے بدتمیزی کرتے سنا جا رہا ہے، کئی پوسٹس نے غلطی سے اسے ایچ ڈی ایف سی بینک کی ملازمہ قرار دیا ہے۔

بینک نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ خاتون بینک کی ملازمہ نہیں ہیں۔ اس آڈیو میں سنائی دینے والا رویہ نہ تو قابل قبول ہے اور نہ ہی یہ ہماری تنظیم کے اقدار کی نمائندگی کرتا ہے۔

بعد ازاں چند دیر بعد انورادھا ورما کی ایک اور آڈیو کلپ بھی وائرل ہوئی، جس میں وہ اپنے رویے پر سی پی آر ایف اہلکار سے معذرت کرتی سنائی دیتی ہیں۔

خاتون نے معافی مانگتے ہوئے آڈیو پیغام میں کہا کہ مجھے خود نہیں معلوم کہ ایسا کیسے ہوا، میں نے غیر ارادی طور پر غلطی کی ہے۔

انورادھا ورما کا مزید کہنا تھا کہ میں اپنے الفاظ واپس نہیں لے سکتی، لیکن اپنے عمل پر معذرت کرتی ہوں۔ مجھے شرمندگی ہے کہ میں نے ایسے الفاظ استعمال کیے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles