ایرانی رہنماؤں کو کیسے مارا گیا؟ امریکی اخبار نے اسرائیل کی خفیہ حکمت عملی بے نقاب کردی

جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی 12 روزہ جنگ نے خطے میں شدید کشیدگی کے ساتھ خفیہ جنگی حکمتِ عملیوں کو بھی بے نقاب کیا۔ عالمی ذرائع کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس نے ایرانی رہنماؤں اور فوجی کمانڈروں تک رسائی کے لیے ان کے محافظوں کے موبائل فونز کو استعمال کیا۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی اعلیٰ قیادت اگرچہ خود اسمارٹ فون استعمال کرنے سے گریز کرتی ہے، مگر ان کے محافظوں اور ڈرائیوروں کے فونز سکیورٹی کے سخت ضابطوں میں شامل نہیں تھے۔ اسرائیل نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا اور ان فونز کے ذریعے حساس شخصیات کی نقل و حرکت جانچ کر حملے کیے۔ اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں کئی فوجی کمانڈر اور بعض جوہری ماہرین نشانہ بنے، جبکہ ایرانی انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔

ایران نے اس کے ردعمل میں آٹھ افراد کو موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ افراد حساس معلومات فراہم کر رہے تھے اور بعض کو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے خفیہ تربیت بھی دی گئی تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے ایران کے سکیورٹی نظام کی کمزوریاں نمایاں کی ہیں، جبکہ جنگ کے بعد شروع ہونے والے سخت سکیورٹی کریک ڈاؤن اور گرفتاریوں پر عالمی اداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles