امریکا ایران مذاکرات شروع نہ ہوسکے، دونوں ممالک کےنمائندے قطر میں موجود

امریکا اور ایران کے درمیان قطر میں براہ راست مذاکرات تاحال شروع نہیں ہو سکے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے نمائندے اس وقت قطر میں ہی موجود ہیں اور تیسرے فریق کے ذریعے یعنی بالواسطہ رابطوں کا سلسلہ چل رہا ہے۔

امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے قطر کے ثالثوں اور بڑے حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔

اس صورتحال پر قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے واضح کیا کہ امریکی وفد ایرانی حکام کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے دوحہ نہیں آیا۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے منجمد کیے گئے چھ ارب ڈالرز کی بحالی کا سیدھا تعلق مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت سے ہے۔

دوسری طرف ایران نے بھی اپنا سخت موقف سامنے رکھ دیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ایرانی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے صاف کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک ہم مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے اس وقت جو ملاقاتیں ہو رہی ہیں، ان کا مقصد صرف پہلے سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ایران، امریکا اور لبنان مل کر وہاں جنگ کے خاتمے کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کریں گے۔

باقر قالیباف نے ایران کی معیشت اور سمندری راستے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سمندری ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد سے ایران اب تک چالیس ملین سے زیادہ بیرل تیل باہر بھیج چکا ہے، اور ایران آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق پر کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کے مطابق آبنائے ہرمز سے بغیر کسی ٹیکس یا لاگت کے گزرنے کی اجازت صرف ساٹھ دن کے لیے ہوگی، کیونکہ اس سمندری راستے پر اصل خودمختاری اور حق صرف ایران اور عمان کا ہے اور وہاں بحری جہازوں کی آمدورفت انہی اصولوں کے مطابق ہوگی جو ایران طے کرے گا۔

انہوں نے امریکا کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہم خلیج کے ساحلی ممالک کے ساتھ ہر وقت مشورہ کرتے رہتے ہیں، اگر امریکا نے ایران کو اپنا تیل بیچنے سے روکنے کی کوشش کی، تو پھر یاد رکھے کہ دنیا میں کوئی بھی تیل سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles