
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں، تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گے۔
اسلام آباد میں پاکستان اور ایران بزنس فورم کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار شریک ہوئے جبکہ تقریب میں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔
اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا فروغ چاہتے ہیں، سرحدی تجارت کے فروغ کی حوصلہ افزائی کریں گے۔
جام کمال نے کہا کہ تجارت کے دستیاب مواقع سے استفادہ کریں گے، دونوں ممالک تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہیں، ایران کی جانب سے سرمایہ کاری کی دلچسپی کو سراہتے ہیں، مشترکہ اقتصادی کمیشن اجلاس سے معاشی تعاون کو فروغ ملے گا۔
ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں، اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پاک ایران بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران بزنس فورم کا انعقاد خوش آئند ہے، ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں، پاک ایران تعلقات مذہبی اور ثقافتی رشتے میں بندھے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ دوطرفہ تجارت کے دستیاب مواقع سے استفادہ کرنا ہوگا، دونوں ملک تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گے، دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، ایران اور پاکستان ایس سی او اور ای سی او فورم میں یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کو بہترین ماحول کی فراہمی کے لیے پرعزم ہیں، پاکستان کے تمام معاشی اشاریے درست سمت میں گامزن ہیں، زرعی اور صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع ہیں، بزنس کمیونٹی سے کہتا ہوں کہ مواقع کا فائدہ اٹھائیں اس سے پہلے کہ یہ ختم ہوجائیں۔
پاک ایران تعلقات مشترکہ ثقافت اور مذہب پر مبنی ہیں، ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں، پاک ایران تعلقات مشترکہ ثقافت اور مذہب پر مبنی ہیں، پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہماری پالیسی کا جز ہیں، پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تجارت 10 ارب تک لے جانا چاہتے ہیں، سمندری اور زمینی راستوں کی ترقی وقت کی ضرورت ہے، فری اکنامک زون دونوں ملکوں کے لیے ضروری ہے۔