بارشوں کا قہر: خیبرپختونخوا اور پنجاب میں تباہی، سیلابی ریلے سے ہلاکتیں، ہزاروں سیاح محصور


خیبرپختونخوا اور پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ چلاس میں تین افراد جاں بحق جبکہ لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکیں بند ہونے کے باعث ہزاروں سیاح پھنس گئے۔ دریاؤں میں طغیانی سے دیہات، فصلیں اور مال مویشی متاثر، کئی علاقوں میں متاثرین تاحال امداد کے منتظر ہیں۔
ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں اور پہاڑی علاقوں میں لینڈسلائیڈنگ و سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، مختلف حادثات و واقعات میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہو گئے، جبکہ ہزاروں سیاح اور مقامی افراد سڑکوں کی بندش کے باعث پھنس کر رہ گئے۔
گلگت بلتستان اور خیبرپختونخواہ میں صورتحال سنگین
چلاس کے تھک نالے میں سیلابی ریلے سے خاتون سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ درجنوں افراد زخمی اور لاپتہ ہیں۔ علاقے میں ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں لیکن سڑکوں کی بندش سے مشکلات درپیش ہیں۔ شاہراہ قراقرم کے چلاس تا گلگت سیکشن پر بھی لینڈسلائیڈنگ کے باعث ٹریفک معطل ہے اور ہزاروں سیاح پھنسے ہوئے ہیں۔
سکردو میں طوفانی بارش سے تباہی
سکردو اور نواحی علاقوں میں شدید بارش اور برگی نالے سے آنے والے سیلابی ریلے نے گھروں، فصلوں اور باغات کو شدید نقصان پہنچایا۔ رگیول گاؤں میں لوگ اپنی جانیں بچا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ سدپارہ روڈ اور دیوسائی جانے والی سڑک بھی لینڈسلائیڈنگ سے بند ہے جس کے باعث ملکی و غیر ملکی سیاح محصور ہو گئے ہیں۔
پنجاب میں بھی تباہ کن صورتحال
جہلم اور چکوال میں لینڈسلائیڈنگ سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے جبکہ دریائے جہلم میں پابندی کے باوجود نہاتے ہوئے چار افراد جاں بحق ہو گئے۔ دینہ کے علاقے پھڈیال میں سڑک بند ہونے سے دونوں اضلاع کا رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔ گورنر پنجاب نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
کہروڑ پکا اور دریائے ستلج کے ارد گرد علاقوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر نہروں اور دریاؤں پر نہانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے مختلف پتنوں کا دورہ کیا اور ہنگامی اقدامات کی ہدایت کی۔
کبیروالا میں دریائے راوی میں پانی کی آمد 37405 اور اخراج 26555 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آئندہ دنوں میں پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
کشمور میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ
دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 73 ہزار 905 اور اخراج 2 لاکھ 49 ہزار 855 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں پانی کی سطح مزید بلند ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اور ملحقہ علاقوں میں الرٹ جاری
اسلام آباد اور راولپنڈی میں شدید بارش کے بعد نالے بپھر گئے، سید پور میں 145 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جس سے نالوں کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا اور کنارے پر کھڑی گاڑیاں بہہ گئیں۔ کٹاریاں پل پر پانی کی سطح 10 فٹ تک پہنچ گئی، نشیبی علاقوں میں ریسکیو اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔
ٹیکسلا میں بھی تیز بارش اور ہواؤں کے باعث مختلف علاقوں میں بجلی بند رہی، جبکہ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
این ڈی ایم اے کا الرٹ
این ڈی ایم اے نے 25 جولائی تک ملک بھر میں ممکنہ سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ خاص طور پر خیبرپختونخوا، بالائی علاقوں، دریائے کابل، سوات، پنجکوڑہ، کالپنی نالہ اور بارہ نالہ میں طغیانی کا خطرہ موجود ہے۔ متعلقہ اداروں کو فوری طور پر پیشگی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles