
حیدرآباد میں چورانوے ملی میٹربارش نے شہرکا حلیہ بگاڑ دیا۔ نشیبی علاقوں میں تاحال برساتی پانی جمع ہے۔ ریلوے کالونی کے گھروں میں کئی کئی فٹ پانی موجود ہے۔ لطیف آباد نمبر دو اور گیارہ کی بھی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ ایم پی اے صابر قائم خانی نے آج نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بارش کی پہلے سے پیش گوئی تھی، پیشگی اطلاع کے باوجود انتظامات نہیں کیے گئے، 24 گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود عوام پریشان ہیں، کئی علاقے تاحال بجلی سے محروم ہیں۔
حیدرآباد میں گزشتہ روز ہونے والی آدھے گھنٹے کی بارش نے شہر کا منظر بگاڑ کر رکھ دیا، جس کے بعد نکاسی آب کا عمل شروع کیا گیا۔ تاہم حیسکو کی جانب سے کئی گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی میں تعطل رہا، جس سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا۔
رات دیر گئے نکاسی آب کا باقاعدہ آغاز کیا گیا، لیکن اس وقت تک شہر کی سڑکیں اور گلیاں تالاب بن چکی تھیں۔ آج صبح تک شہر کے بیشتر علاقوں سے پانی کی نکاسی کر دی گئی تھی۔
لطیف آباد نمبر دو، گیارہ ریلوے کالونی سمیت دیگر نشیبی علاقوں میں اب بھی پانی موجود ہے۔ ریلوے کالونی کے گھروں میں کئی فٹ پانی جمع ہونے کی اطلاعات ہیں جس سے مقامی افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ایم پی اے صابر قائم خانی کی آج نیوز سے گفتگو
صابرقائم خانی ایم پی اے نے آج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بارش کی پہلے سے پیش گوئی تھی،
پیشگی اطلاع کے باوجود انتظامات نہیں کیے گئے، 24 گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود عوام پریشان ہیں، کئی علاقے تاحال بجلی سے محروم ہیں، ریلوے اسٹیشن کے باہر بھی تاحال پانی موجود ہے۔
صابرقائم خانی نے کہا کہ حیدرآباد کے دعوے صرف دعوے ہی رہے، پیپلز پارٹی نے دیہی اور شہری سندھ کو تباہ کر دیا ہے، پیپلز پارٹی شہری علاقوں کی آواز دبانا چاہتی ہے، شہری علاقوں کی آواز کب تک دبائی جاتی رہے گی، انتظامیہ کو بلاتفریق ہرعلاقے کو دیکھنا ہوگا۔
آج نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو پورے سندھ کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی، بتایا جائے کس ایک علاقے میں انتظامات تھے؟ بارش کا پانی دکانوں، مکانوں میں داخل ہو گیا ہے۔