وزیر جیل خانہ جات سندھ علی حسن زرداری کا ملیر جیل کا دورہ


کراچی ملیر جیل سے قیدی فرار ہونے کے دو دن بعد وزیر جیل خانہ جات سندھ منظر عام پر آگئے۔
ایس ایس پی ملیر نے وزیرجیل خانہ جات کو قیدیوں سے فرار کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جیل سے فرار 216 میں سے 105 پانچ قیدی واپس پہنچا دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق قیدیوں نے جیل سیکیورٹی سے ہتھیار چھین کرفائرنگ کی تھی۔ 111 قیدی اور دو ایس ایم جی تاحال غائب ہیں۔
کراچی میں ملیر جیل پر حملے اور قیدیوں کے فرار کے سنسنی خیز واقعے کے بعد سندھ کے وزیر جیل خانہ جات علی حسن زرداری منظر عام پر آ گئے۔ واقعے کے بعد وزیر جیل خانہ جات فوری طور پر ملیر جیل پہنچے جہاں انہوں نے جیل کا تفصیلی دورہ کیا۔
دورے کے دوران ایس ایس پی ملیر نے وزیر جیل خانہ جات کو قیدیوں کے فرار کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق وزیر نے جیل کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور دروازوں سمیت اہم مقامات کی سیکیورٹی چیک کی۔
اس موقع پر جیل انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جنہوں نے وزیر جیل خانہ جات کو ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی۔
زرائع کے مطابق جیل سے فرار 216 میں سے 105 پانچ قیدی واپس پہنچا دیے گئے، قیدیوں نے جیل سیکیورٹی سے ہتھیار چھین کرفائرنگ کی تھی۔ 111 قیدی اور دو ایس ایم جی تاحال غائب ہیں
وزیر علی حسن زرداری نے واقعے کی مکمل انکوائری کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
حکام کے مطابق فرار ہونے والے قیدیوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور جیل کے اطراف سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق دو روز قبل ہزاروں قیدی زلزلے کے خوف کے باعث توڑ پھوڑ کرتے ہوئے نکلے تھے، رات ڈیڑھ بجے کے قریب قیدیوں نے مرکزی دروازہ توڑا، 216 قیدی فرار ہوگئے۔
ابتدائی رپورٹ میں سپرنٹنڈنٹ کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے واقعات میں 12 قیدی اور مختلف اسٹاف ارکان زخمی ہوئے تھے، فرار ہونے کے دوران فائرنگ سے طاہر خان نامی قیدی ہلاک بھی ہوا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles