یوکرین کو صرف 10 فیصد امریکی پیٹریاٹ دیں، تمام روسی میزائل تباہ کر دیں گے: زیلنسکی

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کے بڑھتے ہوئے بیلسٹک میزائل حملوں کو روکنے کے لیے ان کے ملک کے پاس امریکا سے ملنے والے پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی شدید کمی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زیلنسکی نے بتایا کہ یوکرین کو اس وقت امریکا کے موجودہ ذخیرے میں موجود میزائل شکن میزائلوں کا صرف 10 فیصد درکار ہے تاکہ روس کے تمام بیلسٹک میزائل حملوں کو روکا جا سکے، جبکہ 5 فیصد میزائل مل جائیں تو یوکرین موسم سرما گزار سکتا ہے اور شہریوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

زیلنسکی کے مطابق روس نے حالیہ ہفتوں میں یوکرین پر بیلسٹک میزائل حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ دارالحکومت کیف ان حملوں سے خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس یوکرین کے پیٹریاٹ میزائل شکن نظام کے تقریباً ختم ہو جانے کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ رواں برس ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم پیٹریاٹ میزائل ہیں، جبکہ روس کے پاس ہر ماہ پہلے کے مقابلے میں دو گنا زیادہ بیلسٹک میزائل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2022 کے بعد یوکرینی شہریوں کے لیے سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ ثابت ہوا۔

زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ہر رات حملے ہوتے ہیں اور مہینے میں چار یا پانچ مرتبہ بڑے حملے ہوتے ہیں۔ یہ بہت خوفناک راتیں ہیں۔ ہمارے لوگ بہت بہادر اور ثابت قدم ہیں، لیکن وہ تھک چکے ہیں۔

زیلنسکی کے مطابق اگر امریکا اپنے موجودہ ذخیرے کا 5 فیصد میزائل یوکرین کو فروخت کر دے تو ان کا ملک موسم سرما گزار سکتا ہے، جبکہ 10 فیصد ملنے کی صورت میں روس کے تمام بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت حاصل ہو سکتی ہے۔ یوکرینی صدر نے کہا کہ میں اس وقت صرف ایک فیصد رکھتا ہوں۔

انہوں نے سی این این کو انٹرویو میں بتایا کہ میزائل شکن میزائلوں کی عالمی سطح پر کمی ہے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکا اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور کم قیمت ڈرونز کو روکنے کے لیے بڑی تعداد میں ایسے میزائل استعمال کیے، جس کے بعد ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا۔

اس کمی کا سب سے زیادہ اثر یوکرین پر پڑ رہا ہے، جہاں بعض راتوں میں روسی میزائل حملوں کے سامنے شہر تقریباً بے کس دکھائی دیتے ہیں۔

زیلنسکی نے بتایا کہ روسی حملوں کو روکنے کے لیے مزید میزائل حاصل کرنا ان کی روزمرہ کوششوں کا اہم حصہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی میری ہر روز کی زندگی ہے، ایک فیصد سے پانچ فیصد تک پہنچنے کی کوشش۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔ میں میزائلوں کے بدلے کچھ دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں کچھ ایسے کام بھی کرتا ہوں جن کے بارے میں بات نہیں کر سکتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ قانون سے باہر ہیں، لیکن میں ان کے بارے میں بات نہیں کر سکتا۔

دوران انٹرویو زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ انہیں اب تک اس بات کا یقین نہیں کہ امریکا یوکرین کو اپنے ملک میں پیٹریاٹ میزائل شکن میزائل بنانے کی اجازت دینے کے منصوبے کو عملی شکل دے گا یا نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے انقرہ اجلاس کے موقع پر کہا تھا کہ وہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل بنانے کا لائسنس حاصل کرنے کی اجازت دیں گے۔ تاہم کچھ دن بعد ٹرمپ نے اس منصوبے کے بارے میں غیر یقینی کا اظہار کیا۔

پیٹریاٹ میزائل بنانے والی کمپنیوں کے نمائندے بھی اس معاملے پر بات چیت کے لیے کیف کا دورہ کر چکے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

زیلنسکی نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ ہمیں مل جائے گا۔ میرے پاس ابھی 5 فیصد بھی نہیں ہے اور نہ ہی مجھے ایسی منظوری ملی ہے۔ یہ میرے لیے اس جنگ کے آغاز سے اب تک سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔

یوکرین کے صدر کا کہنا تھا کہ وہ پیٹریاٹ میزائلوں کی مزید مدد کے لیے وائٹ ہاؤس سے براہ راست رابطے میں ہیں اور فون کالز اور پیغامات کے ذریعے درخواستیں کر رہے ہیں۔ وہ اپنے اتحادی ممالک کے ذریعے بھی امریکی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے تصدیق کی کہ حال ہی میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے بھی ان کی فون پر بات ہوئی، تاہم انہوں نے اس گفتگو کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔

یوکرین نے ٹرمپ کی قیادت میں جاری امن کوششوں کے لیے نئی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ زیلنسکی کے مطابق امن منصوبے میں امریکا کی مزید شمولیت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امن منصوبے میں امریکی فریق کی مزید شمولیت کی ضرورت ہے۔ میں صدر ٹرمپ کی ٹیم کا شکر گزار ہوں کہ وہ اس عمل کو جاری رکھنا چاہتی ہے، لیکن (روسی صدر ولادیمیر) پیوٹن ابھی جنگ روکنا نہیں چاہتے اور ان پر کافی دباؤ نہیں ہے۔

اُدھر زیلنسکی نے ڈونباس کے باقی ماندہ علاقوں کو روس کے حوالے کرنے کے مطالبے کو بھی مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کے لیے مستقبل کی سیکیورٹی کی ضمانتیں انتہائی اہم ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ روس اس جنگ کے بارے میں بات کرتا ہے تو وہ علاقے کی بات کرتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ بڑی جنگ بندی کے بعد وہ دوبارہ 10 یا 20 لاکھ فوجیوں کے ساتھ کیوں نہیں آئیں گے؟ وہ دوبارہ ہمیں قبضے میں لینے کی کوشش کیوں نہیں کریں گے؟

زیلنسکی نے مزید کہا کہ وہ مغربی ممالک کے اس خدشے سے کسی حد تک متفق ہیں کہ پیوٹن مستقبل میں نیٹو کے خلاف بھی جنگ کو بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس میں نیٹو کے نسبتاً چھوٹے بالٹک ممالک بھی ممکنہ ہدف بن سکتے ہیں۔

ان کے بقول وہ نہیں جانتے کہ اس جنگ کو بڑے قبضے یا اپنی قوم کے لیے بڑی فتح کے بغیر کیسے ختم کرنا ہے۔ ان کے لیے کسی چھوٹے ملک کو نشانہ بنانا زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔ ان کے لیے شاید یہ اہم نہ ہو کہ وہ ملک نیٹو میں ہے یا نہیں۔ وہ فوری فتح چاہتے ہیں، مکمل یقین چاہتے ہیں کہ وہ جیتیں گے، قبضہ کریں گے، تباہ کریں گے یا کنٹرول حاصل کر لیں گے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles