
خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں، موسلا دھار بارش اور آندھی نے تباہی مچادی۔ مختلف حادثات میں دو معصوم بچوں سمیت کم از کم چار افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔ صوابی، شانگلہ، نوشہرہ، ہری پور، مانکی، اور لوئر کوہستان سمیت کئی علاقوں میں دیواریں، درخت اور چھتیں گرنے کے باعث قیامت خیز مناظر دیکھنے کو ملے۔
پشاور، مردان، چارسدہ، اور ایبٹ آباد سمیت متعدد شہروں میں بادل خوب گرجے برسے، جبکہ تیز ہواؤں نے درختوں اور بجلی کے کھمبوں کو زمین بوس کردیا۔ کئی مقامات پر سولر پینلز تک اُڑ گئے۔ آندھی کے باعث ایک وین کھائی میں جاگری، جس کے نتیجے میں ڈرائیور شدید زخمی ہوگیا۔
صوابی کے گاؤں مانکی میں چھت گرنے سے دو سالہ بچہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جب کہ دیگر زخمیوں کو باچا خان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم 58 افراد کو طبی امداد دی گئی۔ شانگلہ میں گھر پر آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے۔ نوشہرہ میں دیوار گرنے کے دو واقعات میں ایک شخص جان سے گیا جبکہ دو زخمی ہوئے۔
ہری پور میں بھی ایک بچہ دیوار کے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوا۔ آندھی اور بارش نے مویشیوں کو بھی نہ بخشا، سری گاؤں میں ایک گھر کی دیوار گرنے سے بیس بکریاں ہلاک ہو گئیں۔
ادھر لوئر کوہستان اور لنڈی کوتل میں بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔ تحصیل غازی کے درہ موہٹ میں طوفانی پانی کے باعث سات کشتیاں الٹ گئیں جبکہ شاہراہِ قراقرم مختلف مقامات پر مٹی کے تودے گرنے سے بند ہو گئی، جس سے سفری مشکلات مزید بڑھ گئیں۔
ایک طرف جہاں قدرتی آفات نے تباہی مچائی، وہیں سیاحوں کیلئے بابوسر ٹاپ پر غیر متوقع برفباری خوشگوار حیرت کا باعث بنی۔ مئی کے مہینے میں جنوری جیسے مناظر دیکھ کر سیاحوں کے چہرے کھل اٹھے اور سوشل میڈیا پر برف سے ڈھکی پہاڑیوں کی ویڈیوز وائرل ہو گئیں۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید بارش اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کی پیشگوئی کی ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز اور محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔