
پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان بجٹ تجاویز اور اہداف پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ تاہم آئی ایم ایف نے مذاکرات کو تعمیری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بجٹ کی شرائط پر بات چیت جاری رہے گی۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ وسیع تر اقتصادی پالیسی پر مفید مذاکرات ہوئے ہیں، جبکہ بجٹ کے حوالے سے مشاورت کا عمل ابھی جاری ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ آئندہ جائزہ مشن رواں سال کی دوسری ششماہی میں متوقع ہے۔
آئی ایم ایف نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف حکومتی اخراجات میں کمی سے مشروط کردیا
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد نے پاکستان کا دورہ مکمل کرلیا ہے اور مذاکرات کے دوران توانائی کے شعبے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ پاکستانی حکام نے مالیاتی استحکام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور واضح کیا کہ سخت مانیٹری پالیسی ان کی ترجیح ہے۔
آئی ایم ایف نے زور دیا کہ مستحکم معیشت کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور شرح مبادلہ میں زیادہ لچک ضروری ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ توسیعی فنڈ سہولت اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بھی آئندہ مشن سال کی دوسری ششماہی میں بھیجا جائے گا۔
وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ تبدیل
پاکستان نے مالی سال 26-2025 میں جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے برابر پرائمری سرپلس کے حصول کا ہدف مقرر کیا ہے۔