
مصطفی عامر قتل کیس میں محکمہ پراسکیوشن کا پولیس کی تفتیش پر اظہار عدم اطمینان۔ ذرائع کے مطابق چار مقدمات میں پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔ پوچھا ملزمان سے اب تک کیا تفتیش کی گئی۔ کتنےگواہان کے بیان قلم بند ہوئے؟ ۔ ڈی این اے اور فنگر پرنٹس کا فرانزک شروع ہوا یا نہیں؟ سی سی ٹی وی اور فنانشل ریکارڈز بھی مانگ لیا۔
تفصیلات کے مطابق مصطفیٰ عامر اغواء و قتل کیس میں محکمہ پراسیکیوشن نے پولیس کی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تفتیشی افسر سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔
ذرائع کے مطابق پراسیکیوشن حکام نے ہدایت دی ہے کہ کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے خلاف درج چار مقدمات میں اب تک ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
محکمہ پراسیکیوشن نے یہ بھی جاننا چاہا کہ کیس میں ملزمان سے اب تک کی گئی تحقیقات کی نوعیت کیا ہے اور کتنے گواہان کے بیانات قلم بند کیے جا چکے ہیں۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ تفتیشی ٹیم سے ڈی این اے، فنگر پرنٹس اور دیگر شواہد کے فرانزک تجزیے سے متعلق بھی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
مزید برآں، تفتیشی افسر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ آیا سی سی ٹی وی ریکارڈ، فنانشل ڈیٹا اور دیگر تکنیکی شواہد حاصل کیے گئے ہیں یا نہیں۔ کیس میں مزید پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔