مصطفیٰ قتل کیس: ملزم ارمغان کے مالیاتی فراڈ سے متعلق اہم انکشافات، کرپٹو سے کارروائیاں


مصطفیٰ قتل کیس میں گرفتار ملزم ارمغان کے حوالے سے مزید سنسنی خیز تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن میں اس کے مرچنٹ اکاؤنٹس اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے بڑے پیمانے پر مالیاتی جعل سازی کا انکشاف ہوا ہے۔
تحقیقات کے مطابق، ملزم کے متعدد مرچنٹ اکاؤنٹس تھے، جو جعلسازی سے حاصل شدہ رقم کی منتقلی کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ ارمغان حاصل شدہ رقم کو براہ راست کرپٹو کرنسی میں منتقل کرتا تھا اور اب تک ملین ڈالرز کی مشکوک رقم کرپٹو میں تبدیل کی جا چکی ہے۔
’ارمغان نے لڑکی کی وجہ سے مجھے دھمکی دی تھی‘، ایک اور قریبی دوست کا انکشاف
ذرائع کے مطابق، بیرون ملک سے آنے والی رقوم کو کرپٹو اے ٹی ایمز میں براہ راست منتقل کیا جاتا تھا، جس سے ان کا سراغ لگانا مزید مشکل ہو جاتا تھا۔

{try{this.style.height=this.contentWindow.document.body.scrollHeight+’px’;}catch{}}, 100)”
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>

کرپٹو ٹرانزیکشنز کی نگرانی تقریباً ناممکن، سائبر سیکیورٹی ماہرین
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملزم ارمغان کی کرپٹو میں منتقل کی گئی رقم کے شواہد حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ کرپٹو لین دین کو ٹریس کرنا روایتی بینکنگ سسٹم کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔
کراچی ڈیفنس کے رہائشیوں کا حکام سے ارمغان کا بنگلہ خالی کرانے کا مطالبہ
مزید تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ارمغان نے پاکستان میں اپنے تمام بینک اکاؤنٹس بند کر دیے تھے اور وہ کرپٹو کرنسی کو ”ریڈ ڈاٹ پے“ پر منتقل کرکے ویزا اور آئی فون ورچوئل کارڈز بنا چکا تھا۔

{try{this.style.height=this.contentWindow.document.body.scrollHeight+’px’;}catch{}}, 100)”
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>

ان ورچوئل کارڈز کی مدد سے ملزم کسی بھی اے ٹی ایم سے رقم نکال سکتا تھا، جس سے اس کی مالی سرگرمیاں مزید مشکوک ہو جاتی ہیں۔
قتل سے پہلے ٹاس: ’تجھے مارنے کا حکم قدرت کی طرف سے ہے‘، ارمغان سے تفتیش میں دل دہلا دینے والے انکشافات
تحقیقاتی ادارے اب اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملزم ارمغان نے یہ رقم کن ذرائع سے حاصل کی اور کن نیٹ ورکس کے ذریعے کرپٹو میں منتقل کی گئی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles