
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی مسلح افواج کی متحدہ کمانڈ کے سربراہ علی عبداللہی سے ملاقات میں فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے اور دشمنوں کے خلاف سخت مؤقف اپنانے کے لیے نئی ہدایات جاری کردی ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق اتوار کے روز خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی، جس میں ملک کی مسلح افواج کی تیاریوں سے متعلق بریفنگ دی گئی تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ملاقات کب ہوئی۔
ملاقات کے دوران میجر جنرل علی عبداللہی نے سپریم لیڈر کو یقین دہانی کرائی کہ ایرانی مسلح افواج ’’امریکی اور صیہونی دشمنوں‘‘ کی کسی بھی ’’اسٹریٹجک غلطی‘‘ یا حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے تمام جنگجوؤں کا مورال بلند ہے جب کہ دفاعی اور جارحانہ تیاریوں، اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور ضروری ہتھیاروں کے حوالے سے مکمل آمادگی موجود ہے۔
ایرانی کمانڈر نے خبردار کیا کہ اگر دشمن کسی قسم کی ’’اسٹریٹجک غلطی، جارحیت یا حملہ‘‘ کرتا ہے تو ایرانی افواج اس کا ’’تیز، شدید اور طاقتور‘‘ جواب دیں گی۔
میجر جنرل علی عبداللہی نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج سپریم لیڈر کے احکامات پر مکمل عمل کرتے ہوئے اسلامی انقلاب کے نظریات، ایران کی خودمختاری، قومی مفادات اور ایرانی عوام کے دفاع کے لیے آخری سانس تک ڈٹی رہیں گی۔
ملاقات کے دوران ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایرانی مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہا اور امریکا- اسرائیل جنگ کے بعد دشمن کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے نئی ہدایات بھی جاری کیں۔
واضح رہے دو روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ حال ہی میں ان کی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے تفصیلی ملاقات ہوئی جو دو گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی۔
اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا تھا کہ ملاقات کے دوران سب سے نمایاں چیز سپریم لیڈر کا عاجزانہ، دوستانہ اور بے تکلف انداز تھا۔ گفتگو کے دوران کھلے دل سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے رواں برس فروری کے آخر میں ایران پر فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا تھا۔ ان حملوں میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت ہزاروں افراد شہید ہوئے تھے جن میں خواتین، بچے، فوجی کمانڈر اور حکومتی عہدیدار بھی شامل تھے۔
ایران نے ان حملوں کے جواب میں اسرائیلی زیر قبضہ علاقوں اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے 40 روز بعد پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی عمل میں آئی تاہم اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔