ایم کیو ایم پاکستان کا سندھ حکومت کیخلاف وائٹ پیپر شائع کرنے کا اعلان


متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے سندھ حکومت کے خلاف وائٹ پیپر شائع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ایم کیو ایمرہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ حکومت پر شدید تنقید کی، فاروق ستار نے کہا کہ سندھ میں بدترین حکمرانی ہے، جس کے نتیجے میں ریٹائرڈ ملازمین کو ان کے واجبات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
فاروق ستار نے بتایا کہ تقریباً 25 ارب روپے کے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات سندھ حکومت کے ذمے ہیں، لیکن انہیں ادائیگی نہیں کی جا رہی، جو کہ ان کا معاشی قتل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ملازم جب ریٹائر ہوتا ہے تو وہ اپنی گریجویٹی اور دیگر کٹوتیوں کا حقدار ہوتا ہے، مگر یہ حقوق بھی سلب کر لیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کے دس ہزار ملازمین ریٹائر ہو چکے ہیں، لیکن ان کے 15 ارب روپے کے بقایاجات ابھی تک ادا نہیں کیے گئے۔ اسی طرح، کے ڈی اے اور واٹر بورڈ کے ریٹائرڈ ملازمین کے بھی 10 ارب روپے سے زائد کے واجبات باقی ہیں۔
فاروق ستار نے الزام لگایا کہ کراچی کے بلدیاتی ادارے ایم کیو ایم کے پاس تھے، مگر سندھ کے وڈیروں نے ان پر قبضہ کر لیا اور ادارے چھین کر اپنے لوگوں کو دے دیے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے بلدیاتی اداروں کے ریٹائرڈ ملازمین کو بھی واجبات نہیں دیے جا رہے، جو ناانصافی کی واضح مثال ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ کراچی کے 25 ٹاؤنز بنا دیے گئے ہیں، مگر انہیں کے ایم سی نے اون کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس سے مسائل میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ شہری اداروں سے کنٹرول چھین کر سندھ کے جاگیرداروں اور وڈیروں کو دے دیا گیا ہے، جبکہ کراچی اور حیدرآباد کے عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
فاروق ستار نے مزید کہا کہ رمضان کے بعد سندھ حکومت کے خلاف وائٹ پیپر شائع کیا جائے گا، جس میں مزید حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ وائٹ پیپر کی پہلی قسط ہے، جبکہ دوسری قسط رمضان کے بعد جاری کی جائے گی۔
انہوں نے سندھ حکومت پر اقربا پروری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد کے نوجوانوں کا کوٹہ جعلی ڈومیسائل رکھنے والے افراد کو دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، دیہی سندھ کے لوگوں کو بوگس ڈومیسائل پر شہری علاقوں میں ملازمتیں فراہم کی جا رہی ہیں، جو سراسر ناانصافی ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ریٹائرڈ ملازمین کے بقایاجات ادا کیے جائیں اور شہری اداروں کو ان کے اصل نمائندوں کے حوالے کیا جائے، ورنہ سخت احتجاج کیا جائے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles