
پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے لوئرکرم میں مشترکہ آپریشن کے دوران 18دہشتگردوں سمیت 30 افراد گرفتارکرلیا ہے۔ کارروائی کے دوران بارہ سہولت کار بھی گرفتارکیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق ضلع کرم میں سرچ آپریشن کے دوران لوئر کرم میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران پولیس نے اٹھارہ دہشت گردوں سمیت تیس افراد گرفتارکیا ہے۔
پولیس اورسیکیورٹی فورسز کی جانب سے بگن، چارخیل، ڈاڈ کمر، مندوری، اوچت سمیت مختلف علاقوں میں مشترکہ کارروائی کی گئی۔
پولیس کے مطابق ضلع کرم میں مشترکہ آپریشن کے دوران 12سہولت کاروں کو بھی گرفتارکیا گیا ہے۔ دہشت گردوں نے پارا چنارجانے والے 30 سے زائد ٹرکوں کو لوٹا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے 19 ٹرکوں کو نذر آتش کیا، مزید دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے کرم، اورکزئی، کوہاٹ میں چھاپے جاری ہیں۔
{try{this.style.height=this.contentWindow.document.body.scrollHeight+’px’;}catch{}}, 100)”
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>
کرم میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، حکومت کا چار دیہات خالی کرانے کا فیصلہ
قبل ازیں خیبرپختونخوا حکومت نے ضلع کرم میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر لوئر کرم کے چار دیہات خالی کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان علاقوں میں شرپسند عناصر کے خلاف سرچ آپریشن کیے جائیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اوچت، مندوری، دادکمر اور بگن نامی دیہات خالی کروا کر وہاں موجود مسلح عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
اعلیٰ سطح کے حکومتی اجلاس میں عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ملزمان و ماسٹر مائنڈز کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ضلع میں موجود بنکرز کی مسماری کا عمل بھی تیزی سے جاری رہے گا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق، کوہاٹ امن معاہدے کے بعد بنکرز کے خلاف آپریشن جاری ہے، جس کے تحت اب تک ضلع بھر میں 194 بنکرز مسمار کیے جا چکے ہیں۔
لوئر کرم کے گاؤں بالش خیل اور خارکلی میں 117 بنکرز کو مسمار کیا گیا۔ جبکہ اپر کرم کے پیوار اور تری منگل میں 77 بنکرز کو گرایا جا چکا ہے۔ 142 روز سے مرکزی شاہراہ بند، شہری مشکلات کا شکار
دوسری جانب پاراچنار اور ٹل کو ملانے والی واحد مرکزی شاہراہ گزشتہ 142 دنوں سے ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند ہے، جس کے باعث مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔
سماجی کارکن علی جواد کے مطابق تقریباً 1500 طلباء و طالبات اور 2000 کے قریب اوورسیز پاکستانی علاقے میں محصور ہیں۔ کئی شہریوں کے ویزے ایکسپائر ہو چکے ہیں اور طلبہ کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیول کی عدم دستیابی کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ مکمل بند ہو چکی ہے، جبکہ **بلیک مارکیٹ میں مہنگے داموں پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت جاری ہے۔ شہریوں کو ایک سے دوسری جگہ جانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن اور مقامی شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر راستے کھول کر لوگوں کو درپیش مسائل کا حل نکالا جائے۔