ایران کی خلیج عمان میں کارروائی، ’اوشن کوئی‘ نامی آئل ٹینکر قبضے میں لے لیا

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے خلیج عمان میں ایک کارروائی کے دوران ’اوشن کوئی‘ نامی آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا، جس پر ایرانی تیل کی برآمدات میں خلل ڈالنے اور قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی بحریہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی قرارداد اور عدالتی حکم کے تحت خلیج عمان میں خصوصی آپریشن کیا گیا۔

بیان کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ نے خلیج عمان میں خصوصی آپریشن کرتے ہوئے ’اوشن کوئے‘ نامی ٹینکر کو قبضے میں لیا، جو ایرانی تیل کی کھیپ لے جا رہا تھا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ ٹینکر خطے کی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کی تیل برآمدات اور ایرانی قوم کے مفادات کو نقصان پہنچانے اور ان میں خلل ڈالنے کی کوشش کررہا تھا۔

ایرانی بحریہ کے مطابق آپریشن میں بحری کمانڈوز اور میرین اہلکاروں نے حصہ لیا اور ٹینکر کو ایران کے جنوبی ساحلوں تک منتقل کرکے عدالتی حکام کے حوالے کردیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی بحریہ ملک کے علاقائی پانیوں میں ایران کے مفادات اور اثاثوں کے دفاع کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے گی اور کسی بھی خلاف ورزی یا جارحیت پر کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

ایران کے 70 ٹینکرز کو امریکی فوج نے روک رکھا ہے: سینٹ کام

دوسری جانب جمعے کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے 70 سے زائد آئل ٹینکرز کو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے روانہ ہونے سے روک دیا ہے۔

سینٹ کام کے مطابق ان تجارتی جہازوں میں مجموعی طور پر 166 ملین سے زائد بیرل ایرانی تیل منتقل کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جس کی مالیت 13 ارب ڈالر سے زیادہ بنتی ہے۔

امریکی فوجی کمان نے اپنے بیان میں اس اقدام کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور تیل کی ترسیل سے متعلق معاملات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles