سندھ میں محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز میں کرپشن عروج پر پہنچ گئی روائیز اسٹیمیٹ کی مد میں رواں برس ایک ہزار ملین روپے سے زائد رقم حاصل کرنے کے لیے صوبائی وزیر محمد علی ملکانی نے خصوصی کوششیں شروع کردی ہیں ۔

ایک سروے کے مطابق حکومت سندھ کے محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز میں محمد علی ملکانی کے وزیر بننیں کے بعد کرپشن عروج پر پہنچ گئی ہے ۔لائیو اسٹاک اینڈ فشریز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب محکمے میں ترقیاتی کاموں کے ہر پراجیکٹ میں کرپشن کے ذریعے کروڑوں روپے کمائے جارہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ دواؤں کی خریداری ، پیٹرول کی خریداری، ٹریولنگ لائونس اور دیگر مرمتی کاموں میں بڑے پیمانے پر رشوت کا بازار گرم کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب گذشتہ برس بھی محکمہ لائیو سٹاک اینڈ فشریز نے روائیز اسٹیمیٹ کی مد میں پانچ سو ملین روپے حاصل کیے جس کے عوض محکمہ خزانہ میں دس فیصد رشوت دی گئی اور باقی رقم سے محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز کے سیکرٹری مھاکرپٹ ڈاکٹر کاظم جتوئی اور سیاہ کے ڈائریکٹر جنرل کرپشن کے بادشاہ ڈاکٹر نظیر احمد کلہوڑو اور منسٹر آفیس کے ایک آفیسر نے مل کر مختلف قسم کے خرچوں کی مد میں ظاہر کرکے جعلی بلنگ اور رشوت کے دیگر طریقوں سے خرد برد کردی گئی ۔دوسری جانب ایک خفیہ ادارے نے محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز پر ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ تیار کرلی ہے اور جس کی بنیاد پر جلد ہی بڑے پیمانے پر ایک انکوائری شروع کردی جائے گی اور ملوث افراد کو باضابطہ طور پر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑیگا ۔