
حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کے چوتھے دور کا آغاز کل سے ہورہا ہے تاہم حکومت نے پی ٹی آئی کے مطالبات پر تحریری جواب تیار کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق حکومتی ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کی میز پر آئے گی تو تحریری جواب ان کے حوالے کر دیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات تحریری طور پر حکومت کے سپرد کیے تھے، اور مذاکرات کے کل ہونے والے چوتھے دور میں حکومت کی جانب سے تحریری جواب ان کے حوالے کرنے کی تیاری مکمل ہے۔
حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ اگر جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تو جج کسی کی مرضی کے شامل نہیں ہوں گے، تحریک انصاف بات چیت میں سنجیدہ ہے تو مذاکرات کی ٹیبل پر لوٹ آئے، جواب تیار کرنے کے لیے حکومتی ٹیم نے قانونی ماہرین سے طویل مشاورت کی ہے۔
حکومت اور پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹیوں کے چوتھے دور کا کل سے آغاز
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے باوجود حکومت اور تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کی چوتھی بیٹھک کل شیڈول ہے جبکہ اسپیکر ایازصادق کی زیرصدارت میٹنگ میں حکومتی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے مطالبات پر تحریری جواب پیش کرنا ہے۔
مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس پونے 12 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے تاحال مذاکرات کے چوتھے دور کا بائیکاٹ کر رکھا ہے، پی ٹی آئی کی عدم شرکت پر حکومتی کمیٹی تحریری جواب اسپیکر کو جمع کرا دے گی۔
اپوزیشن کی عدم شرکت پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی پریس بریفنگ کرنے پر بھی مشاورت کررہی ہے، اپوزیشن کے یکطرفہ بائیکاٹ کے بعد مذاکرات میں اب تک امور پر میڈیا بریفنگ دی جائے گی۔
واضح رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم گزشتہ ہفتے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ ہمارے مطالبات کے مطابق جوڈیشل کمیشن بنائے جانے تک ہم بات چیت میں شامل نہیں ہوں گے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ہمیں کمیشنز کے قیام تک مذاکرات سے الگ ہونے کی ہدایت کر دی ہے، اور ہم بانی کے ہدایات کے مطابق چلنے کے پابند ہیں۔
اس کے باوجود اسپیکر قومی اسمبلی نے 28 فروری کو حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس بلالیا تھا، جس سے دونوں فریقین کو بھی آگاہ کیا جاچکا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیوں میں بات چیت کے 3 ادوار ہوچکے ہیں، چوتھے سیشن کی کل توقع کی جارہی ہے، تاہم پی ٹی آئی کے سرد رویے کے بعد ان مذاکرات کے حوالے سے کچھ بھی کہنا مشکل ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا ، یا کل کے بعد ختم ہوجائے گا۔