توہین عدالت کیس: ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ نے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیا


ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ نذر عباس نے توہین عدالت پر شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایڈیشنل رجسٹرار نے شوکاز نوٹس واپس لینے کی استدعا کی ہے اور جواب میں کہا ہے کہ عدالتی حکم کی نافرمانی نہیں کی، عدالتی آرڈر پر بینچ بنانے کے معاملہ پر نوٹ بنا کر پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بھجوا دیا تھا۔
گزشتہ روز عدالتی حکم کے باوجود بینچز اختیارات کیس سماعت کے لیے مقرر نہ ہونے کے معاملے پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
جمعرات کو سپریم کورٹ میں ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس منصور علی شاہ سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کا آغاز عدالتی معاون حامد خان کے دلائل سے ہوا۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے استےفسار کیا کہ کیا جوڈیشل آرڈر کو انتظامی سائیڈ سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا؟ جس پر حامد خان نے کہا کہ انتظامی آرڈر سے عدالتی حکمنامہ تبدیل نہیں ہوسکتا۔
عدالتی معاون حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کی تشکیل آرٹیکل 175 کے تحت ہوئی ہے، جوڈیشل پاور پوری سپریم کورٹ کو تفویض کی گئی ہے، سپریم کورٹ کی تعریف بھی واضح ہے جس میں تمام ججز شامل ہیں، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں مخصوص ججز ہی سپریم کورٹ کی پاور استعمال کرسکتے ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا جوڈیشل آرڈر کی موجودگی میں ججز کمیٹی کیس واپس لے سکتی تھی؟
بینچز اختیارات کا کیس مقرر نہ ہونے پر جسٹس منصور، جسٹس عائشہ اور جسٹس عقیل عباسی کا چیف جسٹس کو خط
وکیل حامد خان نے کہا کہ کچھ ججز کو کم اختیارات ملنا اور کچھ کو زیادہ ایسا نہیں ہوسکتا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا یہ سوال الگ ہے۔ اگر ہم آرٹیکل 191 اے کی تشریح کا کیس سنتے تو یہ سوال اٹھایا جاسکتا تھا، ہمارے سامنے کیس ججز کمیٹی کے کیس واپس لینے سے متعلق ہے، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس امین الدین خان ججز کمیٹی کا حصہ ہیں، بادی النظر میں دو رکنی ججز کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کیا، اگر ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظرانداز کرے تو معاملہ فل کورٹ میں جاسکتا ہے؟ اس سوال پرمعاونت دیں۔
جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے اس معاملے پر ابہام تو ہے۔
جسٹس عقیل عباسی نے اسفتسار کیا کہ حامد خان صاحب آپ آرٹیکل 191 اے کو کیسے دیکھتے ہیں؟ماضی میں بنچز تشکیل جیسے معاملات پر رولز بنانا سپریم کورٹ کا اختیار تھا، اب سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات ختم کر دیئے گئے ہیں، یہ خیر چلیں 26ویں ترمیم کا سوال آجائے گا۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ کیا دنیا کے کسی ملک میں بنچز عدلیہ کے بجائے ایگزیکٹو بناتا ہے؟ حامد خان صاحب آپ کے ذہن میں کوئی ایک ایسی مثال ہو؟ جس پر حامد خان نے کہا کہ ایسا کہیں نہیں ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles