
پی آئی اے معاہدے کو نشانہ بنانے والا بھارتی نژاد رامسوامی ڈونالڈ ٹرمپ کے 47 ویں امریکی صدر بننے کے چند گھنٹے بعد ہی بھارتی نژاد کاروباری شخصیت وویک رامسوامی حیران کن طور پر نئے تشکیل شدہ محکمہ برائے حکومتی کارکردگی (DOGE) سے فارغ کر دیے گئے۔ رامسوامی نے اوہائیو کے گورنر کے لیے انتخاب لڑنے کا اشارہ دیا تھا۔
واضح رہے کہ نیو یارک شہر میں حکومتِ پاکستان کی ملکیت والے ہوٹل کی آمدنی وہاں موجود بھارتی لابی کو برداشت نہیں ہورہی۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے محکمے کے مشترکہ سابق سربراہ وویک سوامی سے پاکستانی ہوٹل کی آمدنی ہضم نہیں ہو پائی تھی۔ وویک راماسوامی نے پاکستانی ہوٹل کو کرائے کی مد میں 22 کروڑ ڈالر دیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے اس عمل کو حماقت سے تعبیر کیا تھا۔
وویک راماسوامی کا شمار مسلمانوں اور پاکستان کے لیے دل میں شدید نفرت رکھنے والے والوں میں کیا جاتا ہے۔
تاہم حالیہ رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے افواہیں سرگرم ہیں کہ وویک رامسوامی کی محکمے سے چھٹی کرانے میں ارب پتی اور ٹرمپ کے قریبی دوست ایلون مسک کا ہاتھ ہے، انہوں نے رامسوامی کے پینل سے اچانک اخراج میں کردار ادا کیا۔
یہ تصدیق ایک ایسے موقع پر کی گئی جب چند گھنٹے قبل ہی امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی ذمے داریاں سنبھالی تھیں۔
امریکا کی 22 ریاستوں نے شہریت کا پیدائشی حق منسوخ کیے جانے کیخلاف مقدمہ دائر کردیا
ٹرمپ نے راما سوامی کو مسک کے ساتھ پینل کی قیادت کے لیے منتخب کیا تھا۔ تاہم اب ’ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی‘ سے رامسوامی کی علیحدگی کے بعد اب اس محکمے کی قیادت صرف ایلون مسک ہی کریں گے۔
چند میڈیا سے معلوم ہوا کہ رامسوامی نے دسمبر کے اوائل سے DOGE کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔
کمیشن کی ترجمان انا کیلی نے وضاحت کی کہ وویک رامسوامی نے DOGE قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم، راماسوامی جلد ہی عوامی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور ایسا کرنے کے لیے، انہیں DOGE محکمے سے الگ ہونے کی ضرورت ہے۔
انا کیلی کا مزید کہنا تھا ہم گزشتہ دو ماہ کے دوران رامسوامی کی خدمات کے لیے ان کا بے حد شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔