
یوکرین پر روسی حملے کے بعد واشنگٹن نے ماسکو پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں، تاہم اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی میں تبدیلی کے بعد روسی ڈیزل کی ایک کھیپ امریکا پہنچنے والی ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق مالٹا کے پرچم بردار جہاز ایگیوئی فینینڈس میں 3 لاکھ بیرل روسی ڈیزل موجود ہے اور وہ امریکا کی جانب سفر کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت روس کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی امریکی اور اتحادی پالیسی سے واضح انحراف ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ کاروباری معاہدوں اور پابندیوں میں نرمی پر آمادگی ظاہر کر رہی ہے، حالاں کہ یوکرین میں جنگ جاری ہے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے بین ہیرس کے مطابق ٹرمپ کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ روس پر پابندیاں عائد کرنے کو جنگ ختم کرنے کا مؤثر ذریعہ نہیں سمجھتے۔
یہ ڈیزل خریداری امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل سامنے آئی ہے، ایسے وقت میں جب ایندھن کی قیمتیں ووٹرز کے لیے اہم مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ امریکا میں ڈیزل کی قیمت پہلی مرتبہ 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہے، جب کہ ایران جنگ سے پہلے یہ قیمت قومی سطح پر 3 ڈالر 76 سینٹ فی گیلن تھی۔
تاہم رپورٹ کے مطابق روسی ڈیزل کی یہ کھیپ امریکی ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی لانے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ جہاز میں موجود ڈیزل امریکی ٹرانسپورٹ شعبے کی ایک دن کی کھپت کا تقریباً 10 فیصد ہے۔ روس کی جانب سے 22 لاکھ بیرل ڈیزل کی ممکنہ برآمد بھی امریکا کی ایک دن کی ضروریات پوری نہیں کرسکے گی۔
’سی این این‘ کے مطابق ڈیزل کی یہ خریداری امریکا اور روس کے درمیان ممکنہ طور پر متعدد کاروباری معاہدوں میں پہلی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ ان میں روس اور امریکا کے مشترکہ ڈیٹا سینٹر منصوبے اور آرکٹک میں مائع قدرتی گیس کے مشترکہ منصوبے بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روسی تیل کمپنی لوک آئل کے بیرون ملک اثاثوں کی خریداری کے لیے امریکی سرمایہ کاروں پر مشتمل کنسورشیم کا معاہدہ بھی آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل روس کے خودمختار دولت فنڈ پر عائد امریکی پابندیوں میں ممکنہ نرمی کا جائزہ لینے کا عندیہ بھی دے چکی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد واشنگٹن اور ماسکو کے تعلقات بہتر بنانا اور یوکرین جنگ کے خاتمے میں مدد دینا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں کہ روسی ڈیزل لے جانے والا جہاز امریکی بندرگاہ تک پہنچ پائے گا یا نہیں۔ روسی ڈیزل لے جانے والے دو دیگر پابندیوں کی زد میں آنے والے آئل ٹینکرز کا رخ پہلے ہی تبدیل کیا جا چکا ہے، کیونکہ امریکی خریدار قانونی پیچیدگیوں کے خدشات کے باعث خریداری سے ہچکچا رہے ہیں۔
نیو جرسی کی گورنر مکی شیرل نے بھی ریاست کی بندرگاہوں اور ٹرمینل آپریٹرز کو خبردار کیا ہے کہ روسی ڈیزل درآمد کرنا وفاقی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے اور اس پر دیوانی و فوجداری کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیو جرسی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی عوام کی قیمت پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی حمایت کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کے مطابق اس خریداری سے قیمتیں کم ہونے کے بجائے پیوٹن کی یوکرین کے خلاف جنگ کی مالی معاونت ہوگی۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے بین ہیرس کے مطابق نجی شعبہ روسی ڈیزل خریدنے سے گریز کر رہا ہے اور فی الحال اس مال کے خریدار تلاش کرنا مشکل ہے۔