
سینئر سفارت کار اور امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر مسعود خان نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے قطر کی وساطت سے امریکا کو ایک نیا ایٹمی فارمولا بھیج دیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت کے واضح امکانات موجود ہیں۔
مسعود خان کے مطابق اس نئے فارمولے کے تحت ایران اپنی یورینیم کی افزودگی کی حد کو کم کر کے سویلین سطح یعنی 3.6 فیصد تک لانے پر آمادہ ہو سکتا ہے، تاہم ایران کے موجودہ ایٹمی ذخائر کا معاملہ تاحال فریقین کے درمیان ایک اہم رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
ایران کے ایک سینیئر عہدیدار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کو تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا تہران کی جانب سے بھیجی گئی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
تاہم، ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے واضح کیا ہے کہ تہران کی عائد کردہ سات بنیادی شرائط کی منظوری اور ان پر عمل درآمد کے بغیر کسی باضابطہ مذاکرات کا آغاز یا آبنائے ہرمز کو کھولنا ممکن نہیں ہوگا۔
ان شرائط میں امریکی پابندیوں کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی واگزاری اور جنگی تاوان کی ادائیگی شامل ہیں، جبکہ واشنگٹن ابتدائی بات چیت میں ایٹمی معاملات کی شمولیت پر زور دے رہا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے خطے میں عسکری تصادم جاری ہے، جس کے اثرات خلیجی ممالک، لبنان اور یمن تک پھیل چکے ہیں۔
مسعود خان نے متنبہ کیا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان فوجی تصادم کی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک شدید اور ہولناک اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں تاریخی اور کلیدی کردار ادا کیا ہے، اور اسلام آباد کی مسلسل سفارتی کوششوں کی بدولت خطے میں امن قائم ہونے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان، قطر اور عمان خطے کی سلامتی، پائیدار استحکام اور تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بحریرہ احمر اور خطے میں حوثی حملوں کا خاتمہ اور فوری جنگ بندی پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
مسعود خان کے مطابق ان موثر اور مسلسل سفارتی اقدامات کے باعث پاکستان عالمی سطح پر ایک بااثر اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔