
انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی کے زیر اہتمام چھٹی سالانہ بین الاقوامی کانفرنس ’سی بی ای آر کان 2026‘ میں ماہرینِ تعلیم، پالیسی سازوں، صنعتی شعبے کے نمائندوں اور طلبہ نے پاکستان کے پائیدار معاشی مستقبل کے امکانات اور درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔
5 اور 6 نومبر کو منعقد ہونے والی 2 روزہ کانفرنس کا عنوان ’بیونڈ پولی کرائسس: پاتھ ویز ٹوورڈز اے سسٹین ایبل اکنامک فیوچر‘ تھا۔ اس کا انعقاد آئی بی اے سینٹر فار بزنس اینڈ اکنامک ریسرچ نے عالمی بینک گروپ، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن، ناؤ پی ڈی پی، ڈان میڈیا اور آواری ٹاورز کے اشتراک سے کیا۔
آئی بی اے کراچی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس اکبر زیدی نے افتتاحی خطاب میں پاکستان کو درپیش معاشی، ماحولیاتی، آبادی اور سیاسی چیلنجز کو باہم مربوط بحران قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے ملک کی معاشی شرح نمو آبادی میں اضافے کی شرح سے معمولی زیادہ رہی ہے۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آبادی کو دو سنگین بحران قرار دیتے ہوئے فوری توجہ کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی موجودہ آبادی تقریباً 25 کروڑ ہے، جس کے 2030 تک بڑھ کر 27 کروڑ ہونے کا امکان ہے۔
آئی بی اے اسکول آف اکنامکس اینڈ سوشل سائنسز کے پروفیسر ڈاکٹر یعقوب خان بنگش نے خطبۂ استقبالیہ میں کہا کہ پاکستان نے بارہا بحرانوں کا سامنا کرتے ہوئے غیر معمولی استقامت کا مظاہرہ کیا ہے تاہم صرف بحرانوں سے نکلنے کو ترقی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان مشکلات سے آگے بڑھنے کے لیے کون سے اقدامات کیے جائیں۔
بوسٹن یونیورسٹی کے فریڈرک ایس پارڈی اسکول آف گلوبل اسٹڈیز کے ڈین ایمریٹس اور پروفیسر، ڈبلیو ڈبلیو ایف انٹرنیشنل کے صدر پروفیسر عادل نجم نے موسمیاتی تبدیلی اور اس سے مطابقت پیدا کرنے کے موضوع پر کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک ایسی حقیقت ہے جسے صرف ماحولیاتی ماہرین تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پانی، صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق پالیسی سازی میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو لازمی طور پر مدنظر رکھنا چاہیے۔
مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی برطانیہ کی پروفیسر ایوی یوگیاگبے گرین نے معروف ماہرِ معاشیات جان مینارڈ کینز کے مضمون ’اکنامک پاسیبلٹیز فار آور گرینڈ چلڈرن‘ کا ازسرنو جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ خوشحالی کا معیار صرف معاشی ترقی نہیں بلکہ لوگوں کی فلاح و بہبود اور کرۂ ارض پر زندگی برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی ہونا چاہیے۔
کانفرنس کے پہلے روز بینک آف پنجاب کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ظفر مسعود کے ساتھ استقامت اور اخلاقی قیادت کے موضوع پر خصوصی سیشن منعقد ہوا۔ اس کے علاوہ سابق وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور سائنس و ٹیکنالوجی عمر سیف اور سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ساتھ بھی خصوصی مکالمہ ہوا جب کہ کیفیت کلیکٹو نے پائیداری کے موضوع پر تھیٹر پرفارمنس پیش کی۔
موسمیاتی تبدیلی اور معاشی خودمختاری پر زور
کانفرنس کے دوسرے روز آئی بی اے سینٹر فار بزنس اینڈ اکنامک ریسرچ کی پروفیسر اور ڈائریکٹر ڈاکٹر لبنیٰ ناز نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کثیرالجہتی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے تحقیق پر مبنی مؤثر حل ضروری ہیں، جو معاشی استحکام، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور جامع اقتصادی ترقی کو یکجا کر سکیں۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر مصدق ملک نے خطاب میں زرمبادلہ کی کمی کو پاکستان کی معاشی ترقی میں رکاوٹ قرار دیا۔ انہوں نے پتنگ کی ڈور ختم ہونے کی مثال دیتے ہوئے وضاحت کی کہ کس طرح زرمبادلہ کی قلت کے باعث ملک کی معاشی پیش رفت بار بار رک جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی آفات کے نقصانات کا اندازہ صرف مجموعی قومی پیداوار میں کمی سے نہیں بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع اور ذرائع معاش کو پہنچنے والے نقصان کی بنیاد پر بھی لگانا چاہیے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم اور صلاحیتوں کو ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے استعمال کریں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن اور سابق وفاقی وزیر سینیٹر شیری رحمان نے کلیدی خطاب میں کہا کہ پاکستان شمسی توانائی کی جانب عالمی منتقلی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
ان کے اندازے کے مطابق قابل تجدید توانائی کے استعمال سے پاکستان نے 2018 سے 2026 کے دوران فوسل فیول اور مائع قدرتی گیس کی درآمدات پر تقریباً 12 ارب ڈالر کی بچت کی۔
شیری رحمان نے ابھرتے ہوئے کثیرقطبی عالمی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خود کو ایک قابل اعتماد درمیانی درجے کی عالمی طاقت کے طور پر منوایا ہے۔ انہوں نے انسانی فیصلوں کو مکمل طور پر الگورتھمز کے سپرد کرنے کے خطرات سے بھی خبردار کیا اور نوجوانوں، بالخصوص خواتین، پر زور دیا کہ وہ عوامی معاملات میں اپنی آواز مؤثر انداز میں بلند کریں۔
روزگار، مصنوعی ذہانت اور پانی کے مسائل پر مباحثے
کانفرنس کے دوران مختلف پینل مباحثوں میں پاکستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے موضوع پر عالمی بینک کے اشتراک سے گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے کردار، صنفی مسائل، پانی سے متعلق تنازعات، عوامیت پسندی، سیاسی استحکام اور معاشی پالیسی سازی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال جیسے موضوعات کا جائزہ لیا گیا۔
جنوبی ایشیا میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور تباہ کاریوں پر بھی گفتگو ہوئی جب کہ تجارت اور ٹیرف اصلاحات کے حوالے سے خصوصی گرینڈ ڈائیلاگ منعقد کیا گیا۔
دونوں روز متوازی تکنیکی نشستوں میں محققین نے کانفرنس کے مرکزی موضوع سے متعلق اپنی نئی تحقیقات پیش کیں، جس کے ذریعے پاکستان کے معاشی مستقبل سے متعلق مباحثے میں نئے تحقیقی شواہد اور نقطہ ہائے نظر سامنے آئے۔
کانفرنس کا اختتام شرکاء کے تاثرات اور خیالات کے تبادلے کے ساتھ ہوا۔ اس موقع پر آئی بی اے کراچی نے تحقیق اور پالیسی سازی کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور نئی نسل کو ایسی قیادت کے لیے تیار کرنے کے عزم کا اعادہ کیا جو پاکستان کو بحرانوں سے نکال کر پائیدار معاشی مستقبل کی جانب لے جا سکے۔