امریکا نہیں چاہتا پاکستان دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنے: امریکی وزیرِ خارجہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے افغانستان سے پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں پر اسلام آباد کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی پر شدید تشویش ہے اور امریکا نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے۔

امریکی وزیر خارجہ نے 31 اکتوبر کو امریکی شہر اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان نے اپنی سرزمین سے ہونے والے سرحد پار دہشت گرد حملوں کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس صورتِ حال پر تشویش ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان نے اسی صورتِ حال کے پیش نظر سرحد پار دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنے۔

روبیو نے واضح کیا کہ واشنگٹن کو پاکستان کے تحفظات سے آگاہی ہے اور امریکا دہشت گردی کی ہر شکل کے خلاف ہے، چاہے اس کا آغاز کہیں سے بھی ہو یا اس کا نشانہ کوئی بھی ملک بنے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملے میں امریکا کوئی مؤثر اور مثبت کردار ادا کرسکتا ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہے۔

روبیو کے بیان کو افغانستان سے دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کی امریکی سطح پر حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم افغان طالبان ماضی میں پاکستان کی جانب سے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی کے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران پر نئے فوجی حملوں کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، تاہم فوجی کارروائی کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا چاہے تو اپنے فوجی اہداف حاصل کرسکتا ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ تنازع کا سفارتی حل چاہتا ہے اور اگر مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل ممکن ہوا تو واشنگٹن اس کے لیے تیار ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے ایران پر تجارتی جہازوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔

ان کے مطابق اگرچہ امریکا اپنے فوجی اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ نئے فوجی حملوں کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت یا ان کے ممکنہ وقت کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ امریکا سفارتی کوششوں کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم مذاکرات کے نتائج سے متعلق کوئی حتمی بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور خطے میں فوجی تصادم کے خدشات برقرار ہیں۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے سفارتی حل کو ترجیح دینے کے باوجود فوجی آپشن کو بھی خارج نہیں کیا گیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles