چیٹ جی پی ٹی پر نوجوانوں کے لیے ہتھیاروں کی معلومات محدود کرنے کا فیصلہ

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے چیٹ بوٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ کم عمر صارفین کی آن لائن حفاظت بھی اہم مسئلہ بن گئی ہے۔ خاص طور پر ایسے خدشات سامنے آ رہے ہیں کہ ان ٹیکنالوجیز سے حاصل ہونے والی معلومات کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی پر نوجوانوں کو ہتھیاروں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے حوالے سے پابندیاں مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، اوپن اے آئی اب 18 سال سے کم عمر صارفین کو ہتھیاروں اور سکیورٹی نظاموں سے متعلق ایسی عملی معلومات فراہم نہیں کرے گا جن کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہو، چاہے صارف کا سوال بظاہر بے ضرر ہی کیوں نہ ہو۔

اوپن اے آئی نے جمعے کو بتایا کہ ان اقدامات کا مقصد حقیقی دنیا میں تشدد کے خطرات کو کم کرنا اور نوجوان صارفین کو محفوظ رکھنا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنیوں کو کم عمر صارفین کے لیے چیٹ بوٹس کے ممکنہ خطرات اور نقصان دہ سرگرمیوں کی نشاندہی کرنے کی ذمہ داری کے حوالے سے بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔

نئی حفاظتی پالیسی کے تحت بعض پابندیاں تمام صارفین پر بھی لاگو ہوں گی۔ اگر چیٹ جی پی ٹی کو محسوس ہوا کہ کوئی صارف مسلسل تشدد کے موضوع پر غیر معمولی توجہ دے رہا ہے تو وہ خودکار طور پر اس کی گفتگو ختم کر سکے گا۔ بار بار ایسی گفتگو ہونے کی صورت میں کمپنی صارف کا اکاؤنٹ عارضی طور پر معطل بھی کر سکتی ہے۔

کمپنی نے صارفین کی عمر کا اندازہ لگانے والے نظام کو بھی بہتر بنایا ہے۔ اس کے ذریعے ایسے صارفین کو نوجوانوں کے لیے مخصوص چیٹ جی پی ٹی کے تجربے میں منتقل کیا جائے گا جن کی عمر 18 سال سے کم ہونے کا اندازہ ہو۔ اس کے علاوہ اگر کسی نوجوان کا اکاؤنٹ تشدد سے متعلق بار بار گفتگو کرنے پر معطل کیا گیا تو کمپنی اس کے والدین کو بھی اطلاع دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

نئی پابندیوں کا اطلاق ماضی میں پیش آنے والے بڑے پیمانے پر حملوں سے متعلق معلومات پر بھی ہوگا۔ اوپن اے آئی کے مطابق تمام صارفین کو ایسے واقعات میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور انہیں حاصل کرنے کے طریقوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرنے پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نوجوانوں کے چیٹ جی پی ٹی استعمال اور اس کے حفاظتی نظام پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اوپن اے آئی نے رواں ماہ نوجوانوں کے چیٹ جی پی ٹی استعمال سے متعلق اپنی پہلی رپورٹ میں بتایا تھا کہ نوعمر صارفین اوسطاً روزانہ 15 منٹ سے بھی کم وقت اس چیٹ بوٹ پر گزارتے ہیں۔

دوسری جانب غیر منافع بخش ادارے کامن سینس میڈیا کی رواں ماہ جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں نوجوانوں کے لیے چیٹ جی پی ٹی کے مخصوص ورژن کے حفاظتی نظام پر تحفظات ظاہر کیے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق خودکشی، خود کو نقصان پہنچانے یا کھانے پینے کی عادات سے متعلق خطرناک گفتگو کے بعض معاملات میں والدین کو بہت تاخیر سے اطلاع دی گئی یا انہیں بالکل آگاہ نہیں کیا گیا۔

اوپن اے آئی کے مطابق نئے حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد آئندہ چند ہفتوں میں شروع کیا جائے گا اور کمپنی ان کے نتائج کی بنیاد پر نظام میں مزید بہتری لاتی رہے گی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles