
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسرائیل نے شمالی اور وسطی علاقوں میں بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں شروع کردی ہیں، جن میں اسرائیلی فوج کے متعدد ڈویژنز اور فضائیہ حصہ لے رہی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق 48 گھنٹے جاری رہنے والی ان مشقوں کا مقصد اچانک حملوں، سرحدی دراندازی اور ممکنہ زمینی و فضائی خطرات سے نمٹنے کی تیاری کرنا ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق اسرائیلی فوج کی مشقوں میں شام، لبنان اور اردن کی سمت سے ممکنہ زمینی اور فضائی دراندازی کے مختلف منظرنامے شامل کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان مشقوں میں 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے حملوں سے حاصل ہونے والے تجربات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنائی جاسکے۔
اسرائیلی دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر ایہود ایلام نے ان مشقوں کو خطے میں جاری فوجی سرگرمیوں کے تناظر میں اہم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فوجی نقل و حرکت کے بارے میں غلط اندازہ نئی جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا موجودہ صورتِ حال نے 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کی یاد تازہ کردی ہے، جب مصر اور شام نے فوجی مشقوں کی آڑ میں حملے کی تیاریاں کی تھیں۔
ایہود ایلام کے مطابق اسرائیل کی موجودہ مشقیں براہ راست ایران کے خلاف نہیں ہیں، تاہم ایران اور اسرائیل ایک دوسرے کی فوجی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک اس وقت براہ راست جنگ کے بجائے اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کررہے ہیں، لیکن کسی بھی جانب سے غلط اندازہ صورتِ حال کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب نے بھی چند روز قبل فوجی مشقیں کی تھیں، جن میں تقریباً 30 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ان مشقوں کے بعد اسرائیلی فوج کی چوکسی میں اضافہ کیا گیا اور سرحدی علاقوں میں اضافی فوجی دستے تعینات کیے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے 19 اکتوبر کو ایرانی سرحد تک پرواز کی تھی، جس کے بارے میں واشنگٹن کو پیشگی آگاہ کیا گیا تھا۔ ان سرگرمیوں کے بعد خطے میں فوجی تیاریوں اور ممکنہ کشیدگی کے خدشات مزید اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔
ایہود ایلام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے کی فوجی نقل و حرکت کو حملے کی تیاری سمجھ لیا تو اس کے نتیجے میں نیا تصادم شروع ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کا فیصلہ امریکی منظوری پر بھی منحصر ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل میں عام انتخابات سے قبل دفاعی تیاریوں میں اضافے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسرائیل میں عام انتخابات 27 اکتوبر کو شیڈول ہیں۔ تاہم، موجودہ جنگی مشقوں اور انتخابی سرگرمیوں کے درمیان کسی براہ راست تعلق کی تصدیق نہیں کی گئی۔
مجموعی طور پر اسرائیل اور ایران کی حالیہ فوجی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے۔