
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ ناکام بنا دیا گیا، جس کے بعد سعودی اتحادی فوج نے یمن کے دارالحکومت صنعاء میں 2 میزائل لانچرز تباہ کردیے۔
عرب نیوز کے مطابق تباہ کیے گئے لانچرز میں وہ لانچر بھی شامل ہے جس سے ریاض پر میزائل داغا گیا تھا۔ سعودی اتحادی فوج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ حوثیوں کے میزائل نیٹ ورک کو تباہ کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ریاض میں علی الصبح شہریوں کو موبائل فون پر فضائی حملے سے متعلق خبردار کیا گیا، تاہم کچھ دیر بعد خطرہ ٹلنے کا پیغام جاری کردیا گیا۔
دوسری جانب اتوار کو سعودی عرب میں تباہ کیے گئے میزائلوں کا ملبہ گرنے سے 2 افراد زخمی ہوگئے، جبکہ 3 رہائشی عمارتوں اور 7 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
سعودی حکام کے مطابق گزشتہ 2 روز کے دوران ریاض سمیت مختلف شہروں کی جانب داغے گئے متعدد میزائل اور ڈرونز بھی تباہ کیے گئے۔
عرب نیوز کے مطابق ریاض میں مقامی وقت کے مطابق علی الصبح 3 بج کر 42 منٹ پر شہریوں کے موبائل فون پر سول ڈیفنس کی جانب سے فضائی خطرے کا انتباہ جاری کیا گیا، تاہم چند منٹ بعد خطرہ ٹلنے کا پیغام بھیج دیا گیا۔ اتحادی فوج کے مطابق جوابی کارروائی حوثیوں کے مسلسل حملوں اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے باعث ریاض، جنوبی شہروں اور مغربی علاقوں کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے قریب حملوں نے مقدس مقامات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا کردی ہے۔
اتوار کو سعودی حکام نے بتایا کہ خمیس مشیط اور احد رفیدہ میں دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کے بعد ان کا ملبہ گرنے سے ایک سعودی شہری اور ایک ایشیائی باشندہ زخمی ہوگئے۔ سول ڈیفنس کے مطابق ملبہ گرنے سے 3 رہائشی عمارتوں اور 7 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
اس سے قبل ہفتے کو مغربی سعودی عرب کے مختلف مقامات پر میزائلوں کا ملبہ گرا تھا۔ ان میں وادی المغمس بھی شامل ہے، جو مسجد الحرام مکہ مکرمہ سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ملبہ جدہ کے علاقے النزہ، طائف کی وادی جلیل اور صوبہ رابغ کے مرکز مستورہ میں بھی گرا، تاہم ان واقعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔