خلا سے واپس آنے والے خلا نوردوں کو سمندر میں ہی کیوں اُتارا جاتا ہے؟

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ خلا سے واپس آنے والے خلاباز کسی ہوائی اڈے یا زمین پر اترنے کے بجائے سمندر میں اترتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں کیا جاتا ہے اور سمندر میں اترنے کے باوجود ان کی جان کو کیا خطرات لاحق ہوتے ہیں؟

اس کی بنیادی وجہ خلائی جہاز کی واپسی کی رفتار، زمین پر اترنے کے خطرات اور سمندر میں ریسکیو کے امکانات ہیں۔ سمندر کا وسیع رقبہ خلائی جہاز کو اتارنے کے لیے بڑا علاقہ فراہم کرتا ہے، جبکہ پانی جہاز کے زمین سے ٹکرانے کے مقابلے میں جھٹکے کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم، سمندر میں اترنا بھی خطرات سے خالی نہیں ہوتا۔

خلائی مشن سے واپس آنے والے خلا بازوں کی زمین پر محفوظ واپسی کا مرحلہ اتنا ہی حساس اور اہم ہوتا ہے جتنا کہ انہیں خلا میں بھیجنا۔ اپریل 2026 میں ناسا کے آرٹیمس 2 مشن کے چار خلاباز اورین نامی خلائی جہاز میں سوار ہوکر زمین پر واپس آئے۔ ان کا خلائی جہاز کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں اترا۔

رپورٹ کے مطابق، جہاز کے پانی میں اترنے کے بعد امدادی ٹیمیں فوری طور پر حرکت میں آگئیں۔ خلابازوں کو جہاز سے نکال کر ایک ہوا سے بھری ریسکیو کشتی پر منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد فوجی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے انہیں قریب موجود بحریہ کے جہاز تک پہنچایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔

خلائی جہاز کو بھی سمندر میں چھوڑ نہیں دیا گیا۔ بحریہ کے غوطہ خوروں نے اس کے ساتھ مضبوط کیبل باندھی اور ایک خصوصی مشین کی مدد سے اسے بحری جہاز پر موجود مخصوص جگہ تک کھینچ لیا۔ بعد میں اسے کینیڈی اسپیس سینٹر واپس لے جانے کی تیاری کی گئی۔

خلائی ادارے زمین پر لینڈنگ کے بجائے سمندر کے پانی کا انتخاب سائنس کے بنیادی اصولوں کی وجہ سے کرتے ہیں۔ جب کوئی خلائی جہاز زمین کے گرد اپنے مدار سے واپس آتا ہے تو وہ بہت تیز رفتار سے فضا میں داخل ہوتا ہے۔ فضا میں داخل ہوتے وقت ہوا کی مزاحمت سے شدید گرمی پیدا ہوتی ہے، اس لیے جہاز کی بیرونی سطح کو خاص طور پر مضبوط اور گرمی برداشت کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔

فضا سے گزرتے ہوئے جہاز کی رفتار کم ہوتی ہے، لیکن زمین کے قریب پہنچنے کے وقت بھی اسے محفوظ طریقے سے روکنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر اس رفتار سے آنے والا خلائی جہاز کسی سخت سطح سے ٹکرائے تو خلابازوں اور جہاز دونوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سمندر میں اترنے کے دوران پانی جہاز کے ساتھ ٹکراؤ کے اثرات کو کسی حد تک کم کرسکتا ہے، کیونکہ پانی سخت زمین کے مقابلے میں حرکت کرکے اثر کو جذب کرتا ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ پانی پر اترنا نرم یا مکمل طور پر محفوظ عمل ہے۔ اس دوران جہاز پر شدید قوت پڑ سکتی ہے، اس لیے اس کی ساخت، جوڑوں اور حفاظتی حصوں کو خاص طور پر مضبوط بنایا جاتا ہے۔

زمین کی سطح کا بڑا حصہ سمندروں پر مشتمل ہے۔ اس لیے خلائی جہاز کو واپس لانے کے لیے سمندر ایک وسیع علاقہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں زمین پر کسی محدود رن وے یا مخصوص مقام پر جہاز کو اتارنے کے لیے زیادہ درست رہنمائی اور کنٹرول درکار ہوسکتا ہے۔

سمندر میں اترنے کے لیے خلائی جہاز کی رفتار، سمت، موسم اور مقررہ مقام کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ تاہم سمندر میں لینڈنگ کا عمل خطرات سے خالی نہیں ہوتا۔ خراب موسم، تیز ہوائیں اور سمندری لہریں کیپسول کو مقررہ جگہ سے دور لے جا سکتی ہیں، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو کھلے سمندر میں تلاش کا عمل شروع کرنا پڑتا ہے۔ اگر موسم خراب ہو تو امدادی کارروائی مزید مشکل ہوسکتی ہے۔

خلائی جہاز کا پانی میں اتر جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ خطرہ مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔ جہاز میں پانی داخل ہوسکتا ہے، وہ الٹ سکتا ہے یا خلابازوں کو باہر نکلنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔ اسی لیے ان کی بحفاظت واپسی کے لیے پہلے سے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔

1961 میں امریکی خلاباز گس گریسوم کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس خطرے کی ایک مثال ہے۔ ان کا خلائی کیپسول سمندر میں اترنے کے کچھ ہی دیر بعد پانی لینے لگا، جس کی وجہ اس کے دروازے سے متعلق مسئلہ تھا۔ گریسوم کیپسول سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور انہیں سمندر سے زندہ بچا لیا گیا، تاہم ان کا خلائی جہاز ڈوب گیا۔

اس واقعے نے واضح کیا کہ سمندر میں اترنے کے بعد بھی خلابازوں کو فوری امداد فراہم کرنا ضروری ہے۔

اس واقعے کے بعد سے سمندر میں ریسکیو کے طریقہ کار کو بہت زیادہ جدید اور محفوظ بنا دیا گیا ہے۔ آج خلائی جہاز کے سمندر میں اترنے سے پہلے ہی امدادی ٹیمیں تیار رہتی ہیں۔ ان میں بحریہ کے اہلکار، غوطہ خور، ہیلی کاپٹر کے عملے اور طبی ماہرین شامل ہوسکتے ہیں۔

خلائی کیپسول کے گرد خصوصی پھولنے والے حفاظتی حلقے بھی لگائے جاتے ہیں، جو اسے پانی کی سطح پر تیرتے رہنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس طرح جہاز کے ڈوبنے کا خطرہ کم کرنے اور امدادی ٹیموں کو خلابازوں تک پہنچنے کے لیے وقت فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

خلابازوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے بعد ان کی طبی جانچ بھی ضروری ہوتی ہے، کیونکہ کئی دن خلا میں گزارنے کے بعد جسم کو زمین کی کششِ ثقل کے مطابق ڈھلنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

خلائی مشن کی کامیابی کے لیے برسوں کی تیاری درکار ہوتی ہے۔ ناسا کے انجینئرز نے اورین خلائی جہاز کے مختلف نمونوں کو پانی میں اتار کر ان کے رویے کا جائزہ لیا۔ ان تجربات میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ پانی سے ٹکرانے کے وقت جہاز پر کتنی قوت پڑتی ہے اور اندر موجود خلابازوں کو کس قسم کے جھٹکے محسوس ہوسکتے ہیں۔

آرٹیمس 1 جیسے پہلے مشن سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو بھی انجینئرنگ کے جائزوں میں شامل کیا گیا۔ ان تجربات کی مدد سے کمپیوٹر پر ایسے ماڈل تیار کیے جاتے ہیں جو اندازہ لگاتے ہیں کہ خلائی جہاز سمندر میں اترتے وقت کس طرح حرکت کرے گا۔

ان تیاریوں کا مقصد خطرات کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں، بلکہ انہیں کم سے کم کرنا اور کسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیار رہنا ہے۔

کئی ممالک انسانوں کو خلا میں بھیجنے کے منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔ ایسے مشنوں میں صرف خلابازوں کو خلا تک پہنچانا ہی کافی نہیں، بلکہ انہیں بحفاظت زمین پر واپس لانا بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

خلائی جہاز کی تیاری، پانی میں اترنے کے تجربات، امدادی ٹیموں کی تربیت اور ہنگامی منصوبہ بندی، یہ سب ایک کامیاب انسانی خلائی مشن کے اہم حصے ہیں۔

سمندر میں خلائی جہاز اتارنے کی وجہ صرف پانی کا جھٹکا برداشت کرنا نہیں، بلکہ وسیع رقبے اور امدادی کارروائیوں کے امکانات سے فائدہ اٹھانا بھی ہے۔ اس کے باوجود خراب موسم، لہریں اور جہاز میں پانی داخل ہونے جیسے خطرات موجود رہتے ہیں۔ اسی لیے خلابازوں کی محفوظ واپسی کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مسلسل تجربات اور تربیت یافتہ امدادی ٹیموں کا کردار انتہائی اہم ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles