
نیوکلیئر فیوژن ٹیکنالوجی سے وابستہ امریکا کی ایک نئی کمپنی ’میراتھون فیوژن‘ نے پارے (مرکری) کو پائیدار اور مستحکم سونے میں تبدیل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کی پیداواری رفتار یورپی تنظیم برائے نیوکلیئر ریسرچ (سرن) کے سال 2025 کے سائنسی ریکارڈ سے 10 گنا زیادہ بتائی گئی ہے۔
سان فرانسسکو میں قائم اس امریکی ادارے کے مطابق انہوں نے نیوکلیئر فیوژن سے حاصل ہونے والے نیوٹرانز کا استعمال کرتے ہوئے پارے کو سونے کے بنیادی ایٹمی عنصر میں تبدیل کیا، تاہم کمپنی نے فی الوقت اس تجربے کے دوران تیار کیے گئے سونے کی حتمی مقدار یا وزن کو ظاہر نہیں کیا ہے۔
میراتھون فیوژن کے حکام کے مطابق وہ اس ٹیکنالوجی کو صرف قیمتی دھات کی تیاری تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ ان کا مقصد اسے کینسر کی تشخیص اور علاج میں استعمال ہونے والے طبی آئسو ٹوپس کی پیداوار کے لیے بھی استعمال کرنا ہے۔
سائنسی نقطہ نظر سے یہ عمل کیمیائی تعامل کے بجائے نیوکلیئر ٹرانسمیوٹیشن کے ذریعے سرانجام دیا جاتا ہے، جس میں کسی عنصر کی کیمیائی ہیئت تبدیل کرنے کے بجائے ایٹم کے مرکزے یعنی نیوکلیئس میں تبدیلی لائی جاتی ہے۔
کمپنی کی اپنائی گئی ٹیکنالوجی ڈیوٹیریم اور ٹریٹیم کے فیوژن سے پیدا ہونے والے تیز رفتار نیوٹرانز کی مدد سے قدرتی پارے (مرکری-198) کو غیر مستحکم آئسو ٹوپ ’مرکری-197‘ میں تبدیل کرتی ہے۔ اس کے بعد یہ ریڈیو ایکٹو پارہ الیکٹران کیپچر کے قدرتی عمل سے گزر کر سونے کے واحد مستحکم آئسو ٹوپ ’گولڈ-197‘ کی شکل اختیار کر لیتا ہے، تاہم اس عمل کے دوران ریڈیو ایکٹو ضمنی اثرات پر قابو پانا ایک بڑا سائنسی چیلنج بنا رہتا ہے۔
اس سے قبل مئی 2025 میں سرن کے لارج ہیڈرون کولائیڈر میں موجود سائنس دانوں نے لیڈ (سیسے) کے نیوکلیئس کے تصادم کے ذریعے سونے کے نیوکلیئس پیدا کرنے کی تصدیق کی تھی۔
سرن کے ’ایلس‘ (ALICE) تجربے کے تخمینے کے مطابق سال 2015 سے 2018 کے دوران کیے گئے چار بڑے تجربات کے نتیجے میں تقریباً 86 ارب گولڈ نیوکلیایئس بنے تھے، جو وزن میں محض 29 پیکوگرام بنتے تھے، تاہم وہ محض لمحہ بھر قائم رہنے کے بعد تحلیل ہو گئے تھے۔
اس کے برعکس میراتھون فیوژن نے لیڈ کے ایٹمی تصادم کے بجائے نیوکلیئر فیوژن سے نکلنے والے نیوٹرانز کے ذریعے پارے سے وسیع پیمانے پر سونا بنانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔