حوثی باغیوں کا مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کے الزامات کا انکار: ریاض اور آرامکو تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ

یمن کے حوثی باغیوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں، تیل تنصیبات اور فوجی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سعودی حکام کے مطابق دو بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیے گئے۔

سعودی سول ڈیفنس کے مطابق تباہ کیے گئے میزائلوں کا ملبہ مکہ مکرمہ، جدہ، طائف اور رابغ کے اطراف میں گرا، جس کے بعد شہریوں کو عارضی طور پر خطرے سے آگاہ کیا گیا۔

سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے ینبع اور طائف کی جانب آنے والے دو بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کی تصدیق کی، تاہم حوثیوں کے دیگر حملوں کے دعوؤں پر تبصرہ نہیں کیا۔

حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے، ینبع میں آرامکو کی تنصیب، رابغ آئل ریفائنری، خام تیل کے پمپنگ اسٹیشنوں اور ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے دمام، نجران اور خمیس مشیط کے ہوائی اڈوں اور فضائی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ بھی کیا۔

حوثیوں نے ایئرلائنز، عملے اور مسافروں کو خبردار کرتے ہوئے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو غیر محفوظ عسکری ہدف قرار دیا، تاہم سعودی حکام نے ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمدورفت بحال کرنے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثی فورسز پر عدن میں کوسٹ گارڈز کی عمارتوں پر تین بیلسٹک میزائل داغنے کا الزام عائد کیا ہے۔

یمنی وزارت داخلہ کے مطابق دو میزائل کوسٹ گارڈز کے ہیڈکوارٹر اور تیسرا المکلا میں واقع ایک عمارت پر گرا۔

حوثی ترجمان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فورسز نے النصر کیمپ اور نیول بیس میں موجود عسکری اجتماعات کو نشانہ بنایا، جہاں ان کے بقول سعودی افسران کی نگرانی میں سرگرمیاں جاری تھیں۔

حالیہ حملوں سے 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ اس معاہدے کے نتیجے میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔

اکتوبر کے آغاز سے سعودی عرب کی ظہران اور ریاض میں قائم آرامکو تنصیبات سمیت مختلف ہوائی اڈوں پر حملوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہوں اور آبنائے باب المندب کے قریب حوثیوں کی کارروائیوں، جبکہ ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نشانہ بنانے کی کوششوں نے سعودی عرب کی تیل برآمدات اور عالمی بحری تجارت کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles