
مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے یا معاہدے دونوں کے امکانات ظاہر کردیے ہیں۔ ایران نے محدود فوجی کارروائی کا بھی کئی گنا زیادہ طاقت سے جواب دینے کی دھمکی دے دی ہے۔
امریکی جریدے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف نئے حملوں کی تیاری شروع کردی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اور اسرائیل میں انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔
اُدھر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہوجائے گی، تاہم انہوں نے فوجی کارروائی اور معاہدے، دونوں امکانات کو برقرار رکھا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق اسرائیل میں 27 اکتوبر کو عام انتخابات ہوں گے، جبکہ امریکا میں 3 نومبر کو مڈٹرم انتخابات شیڈول ہیں۔ امریکی ریاستوں میں گورنرز کے انتخابات بھی ہوں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابات میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کھونے کا خدشہ ہے، جس کی ایک بڑی وجہ جنگ کے باعث امریکا میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ پہلے دعویٰ کرچکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہوجائے گی، تاہم اب حالات جنگ میں مزید شدت آنے کے خدشات ظاہر کررہے ہیں۔
امریکا پہلے ہی تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑہ اور مزید 10 ہزار میرینز خلیج کی جانب روانہ کرچکا ہے، جسے خطے میں امریکی فوجی تیاریوں میں اضافے کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی سے متعلق سوال پر امریکی صحافی کے سامنے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ میں آپ کو حملے کا منصوبہ بتاؤں گا؟ انہوں نے کہا کہ ایران پر حملہ بھی ہوسکتا ہے اور اس کے ساتھ ایک بڑا اور شاندار معاہدہ بھی طے پاسکتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آیا وہ معاہدے کی پاسداری کرے گا یا نہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران اب بھی معاہدہ کرکے ممکنہ فوجی کارروائی سے بچ سکتا ہے۔ ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے مذاکرات اور فوجی کارروائی، دونوں راستے کھلے رکھے ہیں۔
ادھر ترکیہ میں امریکی سفیر اور شام و عراق کے لیے خصوصی نمائندے ٹام بیرک نے رواں ہفتے ایران پر امریکی حملے کا امکان ظاہر کیا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے سفیر کے اس بیان سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ اس صورتحال میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی کے وقت اور نوعیت کے حوالے سے غیر یقینی برقرار ہے۔
ایران نے بھی امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محدود فوجی کارروائی کی صورت میں بھی دشمن کو کئی گنا زیادہ طاقت سے جواب دیا جائے گا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی کے مطابق ایرانی مسلح افواج ہر قسم کی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور دشمن اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے گا۔
اُدھر ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اسرائیل کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنے کی تنبیہ کی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن کی صرف ایک غلطی کافی ہوگی اور مقبوضہ علاقوں کو ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں رہائش کے قابل نہیں رہنے دیا جائے گا۔
ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان کے ساتھ اسرائیلی فوج کے زیر قبضہ علاقوں کا نقشہ بھی شیئر کیا۔ ان کے بیان کو اسرائیل کے خلاف ایران کی سخت وارننگ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔