سعودی میزائل پلانٹس میں زیادہ مہلک اور طاقتور میزائل تیار کیے جائیں گے: رائٹرز کا دعویٰ

سعودی عرب اپنے بیلسٹک میزائل بنانے والے کارخانے کو وسعت دے رہا ہے، جس سے زیادہ طاقتور اور زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کیے جا سکتے ہیں۔ امریکی محققین نے ایک سال سے زائد عرصے کی تجارتی سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد یہ اندازہ لگایا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کے میزائل پروگرام میں یہ پیش رفت خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتی ہے، تاہم اس سے مشرق وسطیٰ میں میزائلوں کی دوڑ تیز ہونے اور امریکا کے ساتھ ممکنہ سول جوہری معاہدے پر اختلافات بڑھنے کا خدشہ بھی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تحقیقی ادارے فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایف پی آر آئی) کے دو محققین سیم لیر اور مائیکل ڈوئٹس مین نے سعودی عرب کے شہر الریاض سے تقریباً 200 کلومیٹر مغرب میں واقع الدوادیمی میزائل کمپلیکس کی تصاویر کا تجزیہ کیا۔ یہ تصاویر امریکی سیٹلائٹ کمپنی پلینٹ لیبز نے اپریل 2025 سے ستمبر 2026 کے دوران حاصل کیں۔

محققین کے مطابق تصاویر میں میزائل بنانے کے مرکز پر ایک نئی عمارت نظر آتی ہے، جہاں ٹھوس ایندھن تیار کرنے کے لیے خصوصی گڑھے بنائے گئے ہیں۔ ان گڑھوں میں ایندھن کے مختلف اجزا کو ملا کر میزائل کے انجن کے خول میں ڈالا جاتا ہے، جہاں وہ سخت ہو کر ٹھوس شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

سیم لیر اور مائیکل ڈوئٹس مین کے مطابق، نئی عمارت کا حجم پہلے سے موجود اس عمارت سے کم از کم دو گنا بڑا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں بھی ایندھن کو ٹھوس شکل دینے کے لیے گڑھے موجود ہیں۔ نئی عمارت کے اطراف حفاظتی دیواریں بھی بنائی گئی ہیں، تاکہ کسی حادثاتی دھماکے کی صورت میں آس پاس کی عمارتوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

محققین نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب میزائل بنانے والے کمپلیکس میں سہولتوں کو بڑھا رہا ہے اور اس کا مقصد ممکنہ طور پر ایسے بڑے میزائل تیار کرنا ہے جو زیادہ وزنی ہتھیار لے جا سکیں یا زیادہ فاصلے تک مار کر سکیں۔

تصاویر میں ایک دوسری نئی عمارت بھی نظر آئی ہے، جسے محققین کے خیال میں ایندھن کے اجزا یا میزائل کے تیار شدہ حصوں کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کو فوجی اعتبار سے اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ انہیں طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور مائع ایندھن والے میزائلوں کے مقابلے میں نسبتاً کم وقت میں داغا جا سکتا ہے۔

امریکی محققین اور لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) اور دفاعی تحقیق کے ادارے سی این اے کے ماہرین کے مطابق، سعودی عرب کے میزائلوں کی نوعیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ الدوادیمی کمپلیکس میں چینی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔ محققین نے یہ بھی کہا کہ اس مرکز کی بعض خصوصیات چین کے میزائل بنانے والے کارخانوں سے ملتی جلتی ہیں۔

1991 میں جاری ہونے والی امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک غیر خفیہ رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب نے 1987 میں چین سے خفیہ طور پر تقریباً 40 مائع ایندھن والے ڈی ایف تھری بیلسٹک میزائل حاصل کیے تھے۔ سعودی عرب نے پہلی مرتبہ اپریل 2014 میں فوجی پریڈ کے دوران ان میزائلوں میں سے دو کی نمائش کی تھی۔

ایف پی آر آئی کی ٹیم نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر کا جائزہ لے کر یمن میں تباہ شدہ ایک میزائل کے ملبے کی بھی نشاندہی کی، جس کے بارے میں اس کا اندازہ ہے کہ یہ سعودی عرب کی جانب سے داغا گیا چینی ساختہ ڈی ایف 15 میزائل تھا۔

سیم لیر کا کہنا ہے کہ ممکن ہے سعودی عرب اب ٹھوس ایندھن والا ڈی ایف 15 میزائل بھی تیار کر رہا ہو، جبکہ الدوادیمی کمپلیکس میں توسیع کا مقصد زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے ڈی ایف 21 یا اسی نوعیت کے کسی دوسرے میزائل کی تیاری ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے حصول کے لیے چین کا رخ کیا، کیونکہ امریکا طویل عرصے سے ایسے میزائل نظاموں کی برآمد پر پابندیاں عائد کرتا رہا ہے۔

چین کے سفارت خانے اور وزارت دفاع نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا، جبکہ سی آئی اے نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ وائٹ ہاؤس اور سعودی سفارت خانے نے بھی رائٹرز کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

آئی آئی ایس ایس کے محقق ساشا بروخ مین کے مطابق، اگر سعودی عرب زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کر لیتا ہے تو اس کے لیے ایران میں اہم اہداف کو نشانہ بنانا ممکن ہو سکتا ہے، جبکہ اسے اپنے امریکی ساختہ ایف 15 لڑاکا طیاروں کو ایرانی فضائی دفاع کے خطرے میں ڈالنے کی ضرورت کم پڑ سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کے پاس تہران پر جے ڈی اے ایم بموں سے حملے کے لیے ایف 15 طیارے بھیجنے کا سیاسی فیصلہ کرنے کی آمادگی نہیں ہے تو آپ ایسا نظام چاہتے ہیں جو تہران کے لیے انتہائی اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا خطرہ پیدا کر سکے۔

امریکی ساختہ جے ڈی اے ایم ایسے بم ہیں جنہیں سیٹلائٹ کی مدد سے ہدف تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

ساشا بروخ مین نے مزید کہا کہ ایران کو برتری حاصل ہے، کیونکہ اس کے میزائل اور ڈرون سعودی عرب میں جہاں چاہیں حملہ کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب اس صلاحیت کے فرق کو کسی حد تک کم کر سکتا ہے۔

انہوں نے رائٹرز کی درخواست پر ایف پی آر آئی کی تحقیق کا جائزہ لینے کے بعد اس بات سے اتفاق کیا کہ الدوادیمی کمپلیکس میں توسیع کا مقصد زیادہ طاقتور ٹھوس ایندھن والے میزائل تیار کرنا ہو سکتا ہے۔

دفاعی انٹیلی جنس کمپنی جینز نے بھی اس تحقیق کا جائزہ لیا۔ کمپنی کے مطابق، نئی عمارتیں اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہیں کہ سعودی عرب میزائل بنانے کی صلاحیت بڑھانے یا زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری میں مدد دینے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

دفاعی تحقیق کے ادارے سی این اے کے تجزیہ کار ڈیکر ایولتھ، جو تجارتی سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے الدوادیمی میں تعمیراتی کام پر نظر رکھے ہوئے ہیں، نے بھی اس تحقیق سے اتفاق کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہی صورت حال پورے مشرق وسطیٰ میں دہرائی جا رہی ہے۔ آپ متحدہ عرب امارات میں بھی بالکل یہی ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ ترکی میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ اب ہر کوئی یہی کر رہا ہے۔

تجزیہ کار کے مطابق خطے کے کئی ممالک اپنی دفاعی اور حملے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، جس سے میزائلوں کی تیاری اور جدید ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ مزید تیز ہو سکتی ہے۔

سعودی عرب کے میزائل پروگرام میں توسیع کے امریکا کے ساتھ ممکنہ سول جوہری معاہدے پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت امریکا سعودی عرب کو بجلی پیدا کرنے کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت قائم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

معاہدے کے مخالفین کو خدشہ ہے کہ اس میں ایسی سخت حفاظتی شرائط موجود نہیں جو سعودی عرب کو خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے کافی ہوں۔ تاہم سعودی عرب نے جوہری ہتھیار بنانے کے کسی منصوبے کی تردید کی ہے۔

سعودی میزائل پروگرام میں توسیع سے امریکی کانگریس میں اس معاہدے کی مخالفت بڑھ سکتی ہے، جہاں پہلے ہی جوہری پھیلاؤ سے متعلق خدشات پائے جاتے ہیں۔

ایف پی آر آئی کی رپورٹ کے مطابق، الدوادیمی کمپلیکس میں توسیع کا کام اپریل 2025 میں شروع ہوا تھا۔ ابتدا میں زمین صاف کرنے اور ممکنہ طور پر میزائل کے ایندھن کے اجزا رکھنے کے لیے نئی عمارت کی بنیادیں تیار کرنے کا کام کیا گیا۔ اسی ماہ کے آخر یا مئی 2025 کے آغاز میں ایندھن کو ٹھوس شکل دینے کے لیے مخصوص گڑھوں والی عمارت کی تعمیر شروع ہوئی۔

12 دسمبر 2025 کی ایک تصویر میں نئی عمارت کے اندر دو گہرے گڑھے دکھائی دیے، جبکہ اس وقت عمارت کی چھت تعمیر نہیں ہوئی تھی۔

12 دسمبر 2025 کو لی گئی سیٹلائٹ تصویر میں سعودی عرب کے علاقے الدوادیمی میں ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کے انجن تیار کرنے کا کارخانہ دیکھا جا سکتا ہے۔ (تصویر: پلینٹ لیبز، رائٹرز)
12 دسمبر 2025 کو لی گئی سیٹلائٹ تصویر میں سعودی عرب کے علاقے الدوادیمی میں ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کے انجن تیار کرنے کا کارخانہ دیکھا جا سکتا ہے۔ (تصویر: پلینٹ لیبز، رائٹرز)

18 ستمبر 2026 کی تصویر میں بھی چھت کا کچھ حصہ نامکمل تھا۔ عمارت کے دونوں اطراف مضبوط حفاظتی دیواریں دکھائی دیں، جن کا مقصد کسی حادثاتی دھماکے کی صورت میں نقصان کو قریبی عمارتوں تک پھیلنے سے روکنا ہو سکتا ہے۔

18 ستمبر 2026 کو لی گئی سیٹلائٹ تصویر میں سعودی عرب کے علاقے الدوادیمی میں ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کے انجن تیار کرنے کا کارخانہ دیکھا جا سکتا ہے۔ (تصویر: پلینٹ لیبز، رائٹرز)
18 ستمبر 2026 کو لی گئی سیٹلائٹ تصویر میں سعودی عرب کے علاقے الدوادیمی میں ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کے انجن تیار کرنے کا کارخانہ دیکھا جا سکتا ہے۔ (تصویر: پلینٹ لیبز، رائٹرز)

محققین کے مطابق ان دیواروں کی ساخت امریکا اور ایران کے میزائل بنانے والے بعض مراکز میں نظر آنے والی حفاظتی دیواروں سے ملتی جلتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بات اس امکان کو مزید تقویت دیتی ہے کہ عمارت میں ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کے انجن تیار کیے جائیں گے۔

ایف پی آر آئی کے مطابق عمارت کی چھت مکمل کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، تاہم ایندھن کو ٹھوس شکل دینے والی مشینری نصب کرنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ اگر کام منصوبے کے مطابق آگے بڑھا تو یہ مرکز 2026 کے اختتام تک میزائل تیار کرنا شروع کر سکتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles