
انٹرنیٹ پر سرکاری اداروں، اسپتالوں اور دیگر تنظیموں کی ویب سائٹس شہریوں کو اہم معلومات اور خدمات فراہم کرتی ہیں، لیکن ان کے پیچھے کام کرنے والے سافٹ ویئر میں ایک سنگین خامی بھی بڑے پیمانے پر مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے سامنے آنے والی ایسی ہی ایک خامی نے دنیا بھر میں سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کو ہنگامی اقدامات پر مجبور کردیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، بدھ 21 اکتوبر کو یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں متعدد سرکاری ویب سائٹس بند کردی گئیں، جب پروگرامنگ زبان پی ایچ پی میں کئی سال سے موجود سنگین سیکیورٹی خامیوں کا انکشاف ہوا۔ ان خامیوں کے سامنے آنے کے بعد ویب سائٹس چلانے والے اداروں نے اپنے نظام محفوظ بنانے کے لیے فوری اقدامات شروع کردیے۔
پی ایچ پی کے ڈویلپرز نے بدھ کو ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے فوری سافٹ ویئر اپ ڈیٹس جاری کیں اور صارفین کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد اپنے سسٹم اپ ڈیٹ کریں۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے خبردار کیے جانے کے بعد کہ بعض ہیکرز ان خامیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں، متعدد سرکاری اداروں نے احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنی ویب سائٹس عارضی طور پر بند کردیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کو خدشہ ہے کہ خامیوں کو دور کرنے کے لیے اصلاحی اپ ڈیٹس جاری ہونے کے بعد بھی خطرہ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ اب ان خامیوں کی تفصیلات عام ہوچکی ہیں اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ان کا فائدہ اٹھانے کے طریقے تلاش کرنا نسبتاً آسان ہوگیا ہے۔ اس صورت حال میں ہیکرز کے لیے یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ ویب سائٹس کے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے سے پہلے ان پر حملے کریں۔
سائبر سیکیورٹی تحقیق اور واقعات سے نمٹنے والے ادارے ٹی ایل پی: بلیک کے شریک بانی کوسٹن رائیو نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے خامیوں سے فائدہ اٹھانے کی دوڑ کو تیز کردیا ہے۔ ان کے مطابق اگلا مرحلہ انٹرنیٹ پر موجود ہر غیر محفوظ ویب سرور کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔
پی ایچ پی ایک پروگرامنگ زبان ہے جو 1990 کی دہائی کے آغاز میں متعارف ہوئی تھی۔ ابتدا میں اس نام کا مطلب ’پرسنل ہوم پیج‘ تھا۔ یہ زبان ویب سائٹس کے مواد کو تیار کرنے اور صارفین کے براؤزر تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
دنیا بھر میں بڑی تعداد میں ویب سائٹس پی ایچ پی پر انحصار کرتی ہیں۔ ورڈ پریس، ڈروپل، جُوملا اور میگینٹو جیسے معروف ویب پلیٹ فارمز میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے اس زبان میں موجود سنگین سیکیورٹی خامیوں کے اثرات صرف چند ویب سائٹس تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان سے بڑے پیمانے پر اداروں اور صارفین کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
ڈروپل ایسوسی ایشن کی عبوری چیف ایگزیکٹو ٹفنی فارس کے مطابق، گزشتہ 20 برسوں کے دوران جاری ہونے والے پی ایچ پی کے تمام ورژنز استعمال کرنے والے سرورز اس خطرے سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے اثرات انٹرنیٹ کے بیشتر حصے تک پھیل سکتے ہیں۔
دنیا بھر کے سائبر سیکیورٹی اداروں نے پی ایچ پی استعمال کرنے والوں کو فوری طور پر سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے تک اپنی ویب سائٹس بند رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔
انٹرنیٹ پر موجود نظاموں کی نگرانی کرنے والے ادارے ’سینسس‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 26 لاکھ ہوسٹس میں سے 15 لاکھ ایسے پی ایچ پی ورژن استعمال کررہے ہیں جن کے لیے تاحال کوئی اصلاحی اپ ڈیٹ دستیاب نہیں تھی۔ یہ اعداد و شمار اس خطرے کے ممکنہ پھیلاؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت نے خامی کیسے تلاش کی؟
دو سائبر سیکیورٹی کمپنیوں نے الگ الگ رپورٹس میں بتایا کہ پی ایچ پی کی خامیوں کی نشاندہی مصنوعی ذہانت کی مدد سے کی گئی۔
کیلیف نامی کمپنی نے اپنی بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ اس نے یکم اگست کو ایک بڑے لارج لینگویج ماڈل کی مدد سے ان خامیوں کا پتا لگایا تھا اور اس کے بعد سے انہیں دور کرنے کے لیے کام کررہی تھی۔
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کی سائبر سیکیورٹی کمپنی ’وِِز‘ نے بھی بتایا کہ اس نے اپنی خودکار اے آئی پر مبنی سیکیورٹی تحقیق کی ٹیکنالوجی ’وِِز اٹلس‘ کے ساتھ گوگل کے ’جیمنائی 4 آرگن‘ اور اوپن اے آئی کے ’جی پی ٹی 5.6 سول‘ کی مدد سے ان خامیوں کا پتا لگایا۔
وِِز کے مطابق، یہ خامیاں پی ایچ پی کے پروگرامنگ کوڈ میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک چھپی رہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کسی انسانی ہیکر کے لیے ان خامیوں کو استعمال کرنے کا طریقہ تلاش کرنا انتہائی پیچیدہ ہوتا۔
کمپنی نے وضاحت کی کہ اے آئی کے استعمال سے پہلے اس نوعیت کی تحقیق کرنا مشکل تھا اور اسے بڑے پیمانے پر انجام دینا اس سے بھی زیادہ دشوار تھا۔ تاہم، اے آئی نے اس رکاوٹ کو نمایاں طور پر کم کردیا ہے۔
کیلیف اور وِِز نے بتایا کہ انہوں نے اس مسئلے کی نشاندہی اور اس کے حل کے سلسلے میں ایک دوسرے، پی ایچ پی کی ٹیم اور اوپن اے آئی کے ساتھ رابطہ کیا۔
وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ اسے اس سیکیورٹی خامی کے بارے میں جمعے کو آگاہ کیا گیا تھا۔
یورپ میں متعدد اداروں کی ویب سائٹس بند
نیدرلینڈز میں کئی اداروں نے قومی سائبر سیکیورٹی مرکز کی طرح احتیاطی تدبیر اختیار کرتے ہوئے اپنی عوامی ویب سائٹس بند کردیں۔ ان میں روٹرڈیم کی بندرگاہ، سرکاری پورٹل اوورہیڈ ڈاٹ این ایل، ملک کی قومی فٹ بال ایسوسی ایشن ’کے این وی بی‘ ، پانچ بڑی سیاسی جماعتوں کی ویب سائٹس اور متعدد اسپتالوں کی ویب سائٹس شامل تھیں۔
نیدرلینڈز کے قومی سائبر سیکیورٹی ادارے نے بھی اپنی ویب سائٹ عارضی طور پر بند کرنے کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ فیصلہ سیکیورٹی خامیوں کے پیش نظر احتیاطاً کیا گیا۔
آن لائن انسائیکلوپیڈیا وکی پیڈیا کے منتظم ادارے نے بھی بتایا کہ اس نے اپنے بعض نظام اس وقت تک بند کردیے ہیں جب تک ان پر محفوظ طریقے سے اصلاحی اپ ڈیٹس نہیں لگائی جاسکتیں۔ اسی طرح آن لائن مواد کی وسیع لائبریری انٹرنیٹ آرکائیو نے بھی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختصر وقت کے لیے اپنی سروس بند کی۔
ڈنمارک میں بلدیاتی اداروں کو آئی ٹی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کومبٹ نے بھی متعدد سروسز بند کرنے کا اعلان کیا، جن میں قومی اسکول رابطہ پلیٹ فارم شامل ہے۔
فن لینڈ میں خلل مزید وسیع رہا، جہاں سرکاری آئی ٹی خدمات فراہم کرنے والے ادارے والٹوری نے بتایا کہ سرکاری نیٹ ورک کی خدمات احتیاطی اقدام کے طور پر بند کردی گئی ہیں۔
فرانس کی وزارت داخلہ نے بھی اپنی تمام ویب سائٹس کو احتیاطی دیکھ بھال کے مرحلے میں ڈالنے کا اعلان کیا۔
اس صورت حال پر عالمی رہنماؤں نے بھی توجہ دی۔ نیدرلینڈز کے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ویب سائٹس کے مالکان پر زور دیا کہ وہ جانچیں کہ آیا ان کی فعال ویب سائٹس پی ایچ پی استعمال کرتی ہیں اور نئی سیکیورٹی اپ ڈیٹ لگانے کی تیاری کریں۔
ماہرین کے مطابق، اس خطرے کا سامنا ان چھوٹی ویب سائٹس کو زیادہ ہوسکتا ہے جنہیں افراد یا محدود تکنیکی وسائل رکھنے والی تنظیمیں چلاتی ہیں۔ خاص طور پر ایسی ویب سائٹس زیادہ متاثر ہوسکتی ہیں جو مشترکہ ہوسٹنگ سروسز استعمال کرتی ہیں، جہاں صارفین خود بنیادی سرورز کا انتظام نہیں کرتے۔
تاہم، ہر پی ایچ پی پر مبنی ویب سائٹ کے متاثر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے لازماً ہیک کرلیا گیا ہے۔ اصل خطرہ ان سسٹمز کو لاحق ہے جن میں متعلقہ خامی موجود ہے اور جنہیں محفوظ بنانے کے لیے ضروری اپ ڈیٹس نہیں لگائی گئیں۔
ورڈپریس ڈاٹ کام چلانے والی کمپنی آٹومیٹک نے کہا کہ اس کی میزبانی میں چلنے والی ویب سائٹس اور ٹمبلر اس خامی سے محفوظ ہیں۔
موجودہ صورت حال نے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت جہاں سافٹ ویئر میں چھپی سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی میں مدد دے سکتی ہے، وہیں یہی صلاحیت سائبر حملہ آوروں کے لیے بھی فائدہ مند ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے لیے اب فوری چیلنج یہ ہے کہ غیر محفوظ نظاموں کو اپ ڈیٹ کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان خامیوں کو مزید حملوں کے لیے استعمال نہ کیا جاسکے۔